وقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ
Yasmeen Habeebوقت بس رینگتا ہے عمر کے ساتھ
تارہ تارہ گنا ہے عمر کے ساتھ
کتنا آسان سا تعلق تھا
کتنا مشکل ہوا ہے عمر کے ساتھ
پھر سفر نام ہے اذیت کا
راستہ ہانپتا ہے عمر کے ساتھ
کس کی آنکھوں کو نیند چبھتی ہے
کون جاگا رہا ہے عمر کے ساتھ
جانے آرام آئے گا کب تک
درد بڑھنے لگا ہے عمر کے ساتھ
اک گنہ تھا چھپائے رکھا تھا
سامنے آ گیا ہے عمر کے ساتھ
زندگی زندگی نہیں لگتی
کوئی دھوکا ہوا ہے عمر کے ساتھ
صبح کاذب سے شام صادق تک
ایک محشر بپا ہے عمر کے ساتھ
کیسا چہرہ ہے رات کی تفصیل
کون جل کر بجھا ہے عمر کے ساتھ
گرد ماضی ہے وصل کا حاصل
قافلہ ہجر کا ہے عمر کے ساتھ