ہر طرف جلوۂ فروزاں ہے

Faiz Tabassum Tonsvi

ہر طرف جلوۂ فروزاں ہے

صحن ہستی میں اک چراغاں ہے

حسن ہی حسن ہے نگاہوں میں

ذرہ ذرہ گہر بداماں ہے

پھول تو کھل رہے ہیں گلشن میں

اپنی قسمت ہے اپنا داماں ہے

اے وفا نا شناس وقت بتا

آج پھر کس سے عہد و پیماں ہے

زندگی سے جنم کا ساتھ مرا

زندگی مجھ سے کیوں گریزاں ہے

آج موسم حسیں ہے جان بہار

آج چلئے کہ باد و باراں ہے

موجزن ایک قلزم خوں ہے

ڈوبی ڈوبی سی نبض دوراں ہے

سانس لینا نصیب ہے مجھ کو

زندگی پہ بھی تیرا احساں ہے

جس کو انسانیت سے نفرت ہے

عہد حاضر یہ تیرا انساں ہے

جس کی تکمیل آج تک نہ ہوئی

میں ہوں اور میرے دل کا ارماں ہے

فیضؔ کو پوچھتے رہو یارو

سنتے ہیں اک عجیب انساں ہے