Poetry

Poet
Meter
  1. اک ٹھٹھرتی صبح ہےڈاک خانے کی گلی میںYameen
  2. کسی برباد علاقے سےنکلیYameen
  3. وہ چھتری کی طرح کھل کرملی ہےYameen
  4. یاد نہیں کیابھرے پرے بازار سے جب میںYameen
  5. ریت ہمارے تلوے بھونتی ہےاور آنکھیں لال کرتی ہےYameen
  6. سنبھل کر چلبہت گہرا اندھیرا ہےYameen
  7. سن کے بھی چپ ہی رہاتلخ باتیں مشک بار افغانی قہوے کےYameen
  8. مگر ہم نے دیکھاکہ ویران گھاٹی کا دامن بھرا تھاYameen
  9. وہ برفانی راتبادام اخروٹ اور ستوYameen
  10. یہ سایہ تومیرے ہی اندر سے نکل کرYameen
  11. اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کااچھا کوئی پھر کیوں ہو مسیحا مرے دل کاامیر اللہ تسلیم
  12. بھولے سے بھی نہ جانب اغیار دیکھناشرط وفا یہی ہے خبردار دیکھناامیر اللہ تسلیم
  13. پارسائی ان کی جب یاد آئے گیمجھ سے میری آرزو شرمائے گیامیر اللہ تسلیم
  14. تھک گئے تم حسرت ذوق شہادت کم نہیںمجھ سے دم لے لو اگر تیغ ستم میں دم نہیںامیر اللہ تسلیم
  15. چارہ ساز زخم دل وقت رفو رونے لگاجی بھر آیا دیدۂ سوزن لہو رونے لگاامیر اللہ تسلیم
  16. چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھےآپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دکھلائے مجھےامیر اللہ تسلیم
  17. شمیم یار نہ جب تک چمن میں چھو آئےنہ رنگ آئے کسی پھول میں نہ بو آئےامیر اللہ تسلیم
  18. فکر ہے شوق کمر عشق دہاں پیدا کروںچاہتا ہوں ایک دل میں دو مکاں پیدا کروںامیر اللہ تسلیم
  19. کرو نہ دیر جہاں میں جہاں سے آگے چلویہاں گمان خطر ہے قدم بڑھائے چلوامیر اللہ تسلیم
  20. کہنے سننے سے مری ان کی عداوت ہو گئیجو نہ ہونی تھی وہ غیروں کی بدولت ہو گئیامیر اللہ تسلیم
  21. کیوں خرابات میں لاف ہمہ دانی واعظکون سنتا ہے تری ہرزہ بیانی واعظامیر اللہ تسلیم
  22. گر یہی ہے عادت تکرار ہنستے بولتےمنہ کی اک دن کھائیں گے اغیار ہنستے بولتےامیر اللہ تسلیم
  23. وصل کی شب بھی ادائے رسم حرماں میں رہاصبح تک میں التماس شوق پنہاں میں رہاامیر اللہ تسلیم
  24. وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسوالجھے سلجھے مری تقدیر سے شب بھر گیسوامیر اللہ تسلیم
  25. بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھیصدقہ اپنا ساقیا یک جام صہبا اور بھیامیر اللہ تسلیم
  26. غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیادامن دشت جنوں زخموں کا پھاہا ہو گیاامیر اللہ تسلیم
  27. اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہےاک چراغ اور سر راہ گزر باقی ہےHabab Hashmi
  28. اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبریوسف ہی معتبر نہ خریدار معتبرHabab Hashmi
  29. امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہےوہ آتے آتے کئی راستے بدلتا ہےHabab Hashmi
  30. تصور میں بہت کیں انجمن آرائیاں ہم نےسلیقے سے گزاریں اس طرح تنہائیاں ہم نےHabab Hashmi
  31. جب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیاتب اس نے دامن دل کو ذرا کشادہ کیاHabab Hashmi
  32. جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہےکھنچ کے منزل مرے قدموں میں چلی آئی ہےHabab Hashmi
  33. حد جنوں سے بھی آگے گئے ہیں دیوانےملے گی منزل مقصود کب خدا جانےHabab Hashmi
  34. خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہےاس کو اپنے پہ گماں کیسا ہےHabab Hashmi
  35. زندگی اک وبال ہے صاحباب تو جینا محال ہے صاحبHabab Hashmi
  36. سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دوصدی کا غم ہے تو لمحے بکھر ہی جانے دوHabab Hashmi
  37. سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیاہم سے متاع درد جگر کون لے گیاHabab Hashmi
  38. کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کروجو داستاں ہے تمہاری اسے تمام کروHabab Hashmi
  39. کسے بتائیں کہ زاد سفر گیا کب کارہا ہی کیا ہے غم معتبر گیا کب کاHabab Hashmi
  40. کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناںعزیز از دل و جاں ہے حدیث لالہ رخاںHabab Hashmi
  41. کیا ہوا رنگینیٔ صبح و مسا باقی نہیںاپنے ہی گھر میں وہ پہلی سی فضا باقی نہیںHabab Hashmi
  42. مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہودل مضطر کو کسی طور سے آرام تو ہوHabab Hashmi
  43. اب انجمن میں وہ یاران غم گسار کہاںنگاہ لطف کہاں ہم کہاں بہار کہاںTahavvur Ali Zaidi
  44. اے چارہ ساز کاہش درد نہاں نہ پوچھکچھ اور پوچھ مجھ سے مری داستاں نہ پوچھTahavvur Ali Zaidi
  45. تجلیاں ہیں کہ ان کا کوئی حساب نہیںنگاہ شوق ہے اور دیکھنے کی تاب نہیںTahavvur Ali Zaidi
  46. تجلی سے تری معمور ہوناکوئی دیکھے مرا مغرور ہوناTahavvur Ali Zaidi
  47. تم ساتھ ہو تو کچھ نہیں خوف و خطر مجھےکافی ہے اک چراغ سر رہ گزر مجھےTahavvur Ali Zaidi
  48. جب تری بزم سے اٹھ کر کوئی ناشاد آیااپنے انجام کا آغاز مجھے یاد آیاTahavvur Ali Zaidi
  49. خلش دل کی رفیق شام تنہائی بھی ہوتی ہےمگر جب حد سے بڑھ جاتی ہے رسوائی بھی ہوتی ہےTahavvur Ali Zaidi
  50. صحن چمن سے ہم نہ بیاباں سے آئے ہیںبرباد ہو کے کوچۂ جاناں سے آئے ہیںTahavvur Ali Zaidi