Poetry
Poet
Meter
- اک ٹھٹھرتی صبح ہےڈاک خانے کی گلی میںYameen
- کسی برباد علاقے سےنکلیYameen
- وہ چھتری کی طرح کھل کرملی ہےYameen
- یاد نہیں کیابھرے پرے بازار سے جب میںYameen
- ریت ہمارے تلوے بھونتی ہےاور آنکھیں لال کرتی ہےYameen
- سنبھل کر چلبہت گہرا اندھیرا ہےYameen
- سن کے بھی چپ ہی رہاتلخ باتیں مشک بار افغانی قہوے کےYameen
- مگر ہم نے دیکھاکہ ویران گھاٹی کا دامن بھرا تھاYameen
- وہ برفانی راتبادام اخروٹ اور ستوYameen
- یہ سایہ تومیرے ہی اندر سے نکل کرYameen
- اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کااچھا کوئی پھر کیوں ہو مسیحا مرے دل کاامیر اللہ تسلیم
- بھولے سے بھی نہ جانب اغیار دیکھناشرط وفا یہی ہے خبردار دیکھناامیر اللہ تسلیم
- پارسائی ان کی جب یاد آئے گیمجھ سے میری آرزو شرمائے گیامیر اللہ تسلیم
- تھک گئے تم حسرت ذوق شہادت کم نہیںمجھ سے دم لے لو اگر تیغ ستم میں دم نہیںامیر اللہ تسلیم
- چارہ ساز زخم دل وقت رفو رونے لگاجی بھر آیا دیدۂ سوزن لہو رونے لگاامیر اللہ تسلیم
- چاہتا ہوں پہلے خود بینی سے موت آئے مجھےآپ کو دیکھوں خدا وہ دن نہ دکھلائے مجھےامیر اللہ تسلیم
- شمیم یار نہ جب تک چمن میں چھو آئےنہ رنگ آئے کسی پھول میں نہ بو آئےامیر اللہ تسلیم
- فکر ہے شوق کمر عشق دہاں پیدا کروںچاہتا ہوں ایک دل میں دو مکاں پیدا کروںامیر اللہ تسلیم
- کرو نہ دیر جہاں میں جہاں سے آگے چلویہاں گمان خطر ہے قدم بڑھائے چلوامیر اللہ تسلیم
- کہنے سننے سے مری ان کی عداوت ہو گئیجو نہ ہونی تھی وہ غیروں کی بدولت ہو گئیامیر اللہ تسلیم
- کیوں خرابات میں لاف ہمہ دانی واعظکون سنتا ہے تری ہرزہ بیانی واعظامیر اللہ تسلیم
- گر یہی ہے عادت تکرار ہنستے بولتےمنہ کی اک دن کھائیں گے اغیار ہنستے بولتےامیر اللہ تسلیم
- وصل کی شب بھی ادائے رسم حرماں میں رہاصبح تک میں التماس شوق پنہاں میں رہاامیر اللہ تسلیم
- وصل میں بگڑے بنے یار کے اکثر گیسوالجھے سلجھے مری تقدیر سے شب بھر گیسوامیر اللہ تسلیم
- بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھیصدقہ اپنا ساقیا یک جام صہبا اور بھیامیر اللہ تسلیم
- غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیادامن دشت جنوں زخموں کا پھاہا ہو گیاامیر اللہ تسلیم
- اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہےاک چراغ اور سر راہ گزر باقی ہےHabab Hashmi
- اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبریوسف ہی معتبر نہ خریدار معتبرHabab Hashmi
- امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہےوہ آتے آتے کئی راستے بدلتا ہےHabab Hashmi
- تصور میں بہت کیں انجمن آرائیاں ہم نےسلیقے سے گزاریں اس طرح تنہائیاں ہم نےHabab Hashmi
- جب اس سے ترک ملاقات کا ارادہ کیاتب اس نے دامن دل کو ذرا کشادہ کیاHabab Hashmi
- جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہےکھنچ کے منزل مرے قدموں میں چلی آئی ہےHabab Hashmi
- حد جنوں سے بھی آگے گئے ہیں دیوانےملے گی منزل مقصود کب خدا جانےHabab Hashmi
- خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہےاس کو اپنے پہ گماں کیسا ہےHabab Hashmi
- زندگی اک وبال ہے صاحباب تو جینا محال ہے صاحبHabab Hashmi
- سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دوصدی کا غم ہے تو لمحے بکھر ہی جانے دوHabab Hashmi
- سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیاہم سے متاع درد جگر کون لے گیاHabab Hashmi
- کبھی ہمارے لئے تیغ بے نیام کروجو داستاں ہے تمہاری اسے تمام کروHabab Hashmi
- کسے بتائیں کہ زاد سفر گیا کب کارہا ہی کیا ہے غم معتبر گیا کب کاHabab Hashmi
- کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناںعزیز از دل و جاں ہے حدیث لالہ رخاںHabab Hashmi
- کیا ہوا رنگینیٔ صبح و مسا باقی نہیںاپنے ہی گھر میں وہ پہلی سی فضا باقی نہیںHabab Hashmi
- مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہودل مضطر کو کسی طور سے آرام تو ہوHabab Hashmi
- اب انجمن میں وہ یاران غم گسار کہاںنگاہ لطف کہاں ہم کہاں بہار کہاںTahavvur Ali Zaidi
- اے چارہ ساز کاہش درد نہاں نہ پوچھکچھ اور پوچھ مجھ سے مری داستاں نہ پوچھTahavvur Ali Zaidi
- تجلیاں ہیں کہ ان کا کوئی حساب نہیںنگاہ شوق ہے اور دیکھنے کی تاب نہیںTahavvur Ali Zaidi
- تجلی سے تری معمور ہوناکوئی دیکھے مرا مغرور ہوناTahavvur Ali Zaidi
- تم ساتھ ہو تو کچھ نہیں خوف و خطر مجھےکافی ہے اک چراغ سر رہ گزر مجھےTahavvur Ali Zaidi
- جب تری بزم سے اٹھ کر کوئی ناشاد آیااپنے انجام کا آغاز مجھے یاد آیاTahavvur Ali Zaidi
- خلش دل کی رفیق شام تنہائی بھی ہوتی ہےمگر جب حد سے بڑھ جاتی ہے رسوائی بھی ہوتی ہےTahavvur Ali Zaidi
- صحن چمن سے ہم نہ بیاباں سے آئے ہیںبرباد ہو کے کوچۂ جاناں سے آئے ہیںTahavvur Ali Zaidi