خلش دل کی رفیق شام تنہائی بھی ہوتی ہے
Tahavvur Ali Zaidiخلش دل کی رفیق شام تنہائی بھی ہوتی ہے
مگر جب حد سے بڑھ جاتی ہے رسوائی بھی ہوتی ہے
فراہم جن سے سامان جراحت ہوتے رہتے ہیں
انہی نظروں میں در پردہ مسیحائی بھی ہوتی ہے
نظر محسوس کر سکتی نہیں جس کی لطافت کو
کسی کی مست آنکھوں میں وہ رعنائی بھی ہوتی ہے
یہی دنیا جو ہنستی ہے مرے حال پریشاں پر
یہی دنیا کبھی میری تمنائی بھی ہوتی ہے
ادائے پرسش احوال پر کہنا مرا آخر
جفا دل پر بہ انداز شکیبائی بھی ہوتی ہے
فقط نادانیوں پر آئے کیوں الزام بربادی
کہیں وجہ تباہی صرف دانائی بھی ہوتی ہے
محبت کا وہ عالم بھی قیامت خیز ہے زیدیؔ
گوارا جس کی خاطر دل کو رسوائی بھی ہوتی ہے