حد جنوں سے بھی آگے گئے ہیں دیوانے

Habab Hashmi

حد جنوں سے بھی آگے گئے ہیں دیوانے

ملے گی منزل مقصود کب خدا جانے

کئے ہیں تو نے منور دلوں کے کاشانے

ترے وجود سے آباد ہیں صنم خانے

جو تم نہ تھے تو بہاریں خزاں سے بد تر تھیں

تم آ گئے تو چمن بن گئے یہ ویرانے

شب فراق ہجوم غم و الم کے طفیل

تمہاری یاد چلی آئی دل کو بہلانے

تمام عمر رہی یوں ہی چاک دامانی

چلے ہیں اہل خرد آج مجھ کو سمجھانے

حبابؔ اشک ندامت ہیں ان کی آنکھوں میں

قبول کیجے خلوص و وفا کے نذرانے