مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہو

Habab Hashmi

مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہو

دل مضطر کو کسی طور سے آرام تو ہو

مجھ سے آوارہ کو مل جائے مگر جائے اماں

آرزو ہے ترے کوچے میں کبھی شام تو ہو

موج خوں سر سے گزر جائے تو کچھ بات بنے

آج زنداں میں بھی تزئین در و بام تو ہو

تپتے صحرا میں بھی سایہ کہیں مل جائے گا

پہلے اے دوست تجھے جرأت یک گام تو ہو

بے گناہی کا مرے قتل پہ چرچا ہوگا

کوئی بہتان تراشو کوئی الزام تو ہو

گر ترا لطف نہیں تیرا تغافل ہی سہی

آخرش میری وفا کا کوئی انعام تو ہو

انگلیاں اٹھتی ہیں جس سمت بھی جاتے ہو حبابؔ

نہ سہی کچھ مگر اک شاعر بدنام تو ہو