خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے

Habab Hashmi

خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے

اس کو اپنے پہ گماں کیسا ہے

کوئی جنبش ہے نہ آہٹ نہ صدا

یہ جہان گزراں کیسا ہے

دل دھڑکنے کی بھی آواز نہیں

سانحہ کاہش جاں کیسا ہے

آج تک زخم ہرے ہیں دل کے

مرہم چارہ گراں کیسا ہے

اس سے نزدیک نہیں ہے کوئی

وہ قریب رگ جاں کیسا ہے

گل کھلا ہی گئی لیلائے بہار

شور آشفتہ سراں کیسا ہے

ہم کڑی دھوپ کے عادی تھے حبابؔ

سر پہ یہ ابر رواں کیسا ہے