Poetry
Poet
Meter
- دل مایوس میں ہے تیری یادجیسے ویرانہ میں ہو گنج نہاںZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- دیدۂ افلاک نے دیکھے بہت انقلابعہد کہن کے نشاں محو ہوئے مثل خوابZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- شعر کیا ہے حسن کی ہر ایک شے میں جستجواک نگار حسن سے پردہ کے پیچھے گفتگوZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- کشور مغرب علمبردار تہذیب جدیدآ دکھا دوں میں تجھے انوار تہذیب جدیدZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- اس دور کے آقاؤں کی عادت نہیں بدلیہم جیسے فقیروں کی بھی فطرت نہیں بدلیSaba Bilgrami (b. 1955)
- تجربہ ہے مرحلہ ہے حادثہ ہے زندگیزندگی منزل نہیں ہے راستہ ہے زندگیSaba Bilgrami (b. 1955)
- رخ حیات نکھرتا ہے حادثات کے بعدخوشی کی صبح بھی آئے گی غم کی رات کے بعدSaba Bilgrami (b. 1955)
- موسم ہرا بھرا ہے یہ منظر بھی دیکھ لےکچھ دیر تازگی میں سنور کر بھی دیکھ لےSaba Bilgrami (b. 1955)
- میسر آ گئی ہے آگہی کیارکے ہیں لوگ منزل آ گئی کیاSaba Bilgrami (b. 1955)
- وہ ہمارے ذہن میں جب تک رہارتجگوں کا سلسلہ تب تک رہاSaba Bilgrami (b. 1955)
- قدم قدم ہیں راون لیکننربل کے بس رام بہت ہیںSaba Bilgrami (b. 1955)
- اندھی راہوں کی الجھن میں بیچاری گھبرائی راتپہلے لہو میں پھر آنسو میں پھر کرنوں میں نہائی راتPaigham Aafaqi (1956–2016)
- خواب تعبیر کے اسیر نہ تھےرہ گزر تھے یہ راہگیر نہ تھےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- خلا کے اس روشن آنگن میںپاگل دھرتی ناچ رہی ہےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- زمیں پہلے ایسی کبھی بھی نہ تھیپاؤں مٹی پہ ہوتے تھےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- کیسے کھینچوں تری تصویر تو گم ہے اب تکتجھ کو اے جان جہاں میں نے تو دیکھا بھی نہیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- مہر تاباں کی تیز کرنوں سےذرہ ذرہ ہے آتش پیکرPaigham Aafaqi (1956–2016)
- میں انقلاب کی نہیں انقلاب سے واپسی کی بات کر رہا ہوںمیں ان کے اٹھے ہوئے ہاتھوںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- میں نے آج رات کے آخری پہرخواب دیکھا ہےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- بانسوں کا یہ جھنڈیہ پاگل کوےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- یہ در و دیوار یہ کمرہ یہ لمحےاور میںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- الفاظ کے جادو سےسحر کاروں نے ہر وقتPaigham Aafaqi (1956–2016)
- تم جھوٹ بولتے ہوکہ پتھر اور شیشے کے مکانوں میںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- جب ریت کا صحرا دیکھ کے ڈر جاتا ہے ادیب کا سینہ بھیوہ لمحے اکثر آتے ہیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- چلتے چلتے مری نیند ٹوٹی تو دیکھاہر اک سمت تاریک اسرارPaigham Aafaqi (1956–2016)
- رفتہ رفتہ ہمیں اس طرح زندگی میں سجایا گیاہم چمکنے لگے جگمگانے لگےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- زخموں کے انبار، در و دیوار بھیسونے لگتے ہیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- صاف و شفاف جھیلوں کی وہ مچھلیاںوہ تڑپتی ہوئی مچھلیاںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- کھیتوں میں جو چاند اگے ہیںان کی کرنیںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- مہر دانش کی یہ روشنی زندگی کے اندھیرےیہ میدان یہ خون یہ لاش پہ لاشPaigham Aafaqi (1956–2016)
- میں تمہارا دشمن ہوںمیں تمہارے جسم کا جرثومہ ہوںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- ندیاں میرے قدموں کے نیچے سے بہتی چلی جا رہی ہیںپہاڑ میرے گھٹنوںPaigham Aafaqi (1956–2016)
- ہم وہاں پہ بیٹھے تھےبعد میں ہوا معلومPaigham Aafaqi (1956–2016)
- یہ وہی گلیاں ہیں جن کی قبروں میںمیرا بچپن ہڈیوں کی شکل میں بکھرا پڑا ہےPaigham Aafaqi (1956–2016)
- ابر رحمت گھروں پہ رہتے تھےجب دوپٹے سروں پہ رہتے تھےParveen Kaif (b. 1956)
- اب وہ آنگن وہ گھر نہ کھپریلیںپیڑ پنچھی نہ پھول اور بیلیںParveen Kaif (b. 1956)
- بس گیا ہے وہ چاند پر جا کرآؤ ملتے ہیں اس کے گھر جا کرParveen Kaif (b. 1956)
- پیام غم کا وہی غم گسار دیتے ہیںتسلیاں جو نئی بار بار دیتے ہیںParveen Kaif (b. 1956)
- جب کبھی کوئی کام یاد آیاتب انہیں میرا نام یاد آیاParveen Kaif (b. 1956)
- چاند پر کیوں میں اکیلی جاتیساتھ کوئی تو سہیلی جاتیParveen Kaif (b. 1956)
- چاند سورج مرے گھر آتے ہیںکیا حسیں خواب نظر آتے ہیںParveen Kaif (b. 1956)
- چین آتا نہیں ان سے ملاقات کئے بنبولیں نہ وہ میں رہتی نہیں بات کئے بنParveen Kaif (b. 1956)
- حیا تو اس سے شرماتی بہت ہےپڑوسن میری اتراتی بہت ہےParveen Kaif (b. 1956)
- دھوپ کھڑکی سے سرہانے آئیچاند خوابوں کے بجھانے آئیParveen Kaif (b. 1956)
- سکندر کے سفر کی بات نکلےکفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلےParveen Kaif (b. 1956)
- فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگاایک رشتہ ٹوٹنے سے بچ گیا اچھا لگاParveen Kaif (b. 1956)
- کوئی کسی کی طرح ہے کوئی کسی کی طرحبس ایک آپ کا جلوہ ہے آپ ہی کی طرحParveen Kaif (b. 1956)
- گھونٹ پانی کے سوندھے سوندھے تھےجب وہ مٹی کے آب خورے تھےParveen Kaif (b. 1956)
- لو وہ آنسو سجھائی دینے لگےدن میں تارے دکھائی دینے لگےParveen Kaif (b. 1956)
- نہ بلاؤ مجھے خدا کی طرفمیں اسی کی ہوں بندگی میں لگیParveen Kaif (b. 1956)