مہر تاباں کی تیز کرنوں سے
Paigham Aafaqi (1956–2016)مہر تاباں کی تیز کرنوں سے
ذرہ ذرہ ہے آتش پیکر
ہر طرف ایک ہولناک سماں
ہر طرف محو اضطراب انساں
راستوں پہ ڈگر پہ کھیتوں پہ
چھا گیا ہے بخار کا غلبہ
کچھ مویشی کھڑے لب دریا
پی کے آب حیات بیٹھ رہے
ہو کے پژمردہ سبزہ زاروں سے
چل رہی ہے ہوائے کیف آگیں
گا رہے ہیں عجیب سا نغمہ
چیڑ کے پیڑ کھوئے کھوئے سے
آ رہی ہے تھکی تھکی سی صدا
سنگ ریزوں سے آبشاروں سے
اک سکوں آفریں شجر کے تلے
آ کے لیٹا ہوا ہوں گھاس پہ میں
جیسے لوری سنا رہا ہے کوئی
جیسے ہر غم سے پا چکا ہوں نجات
جیسے ہر فکر ساتھ چھوڑ چکی
پھر کسی نے اٹھا دیا آکر
اس جگہ سے بھگا دیا آکر
یہ سکوں اور یہ پیار فطرت کا
اس زمانے کی یاد میں شاید
جب کہ انسان دست فطرت کا
خوب صورت سا اک کھلونا تھا
جیسے ماؤں کی گود میں بچے
آج یہ چین یہ سکون کہاں
آج تو جنگلوں کے اندر بھی
شہر کے کاروبار چلتے ہیں
آج جنگل کی زندگی کے لئے
شہر سب سے بڑا درندہ ہے