Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کرڈوب جائے گا یہ گھر کچھ ہوش کرTahir Hanfi (b. 1955)
  2. تمام عمر کا دکھ تھا وبا کے موسم میںمیں اس لیے بھی تھا رویا وبا کے موسم میںTahir Hanfi (b. 1955)
  3. دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھااک روشنی کا عکس بھی میرے ہنر میں تھاTahir Hanfi (b. 1955)
  4. دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لیبارش کی جل ترنگ نے تنہائی چھین لیTahir Hanfi (b. 1955)
  5. رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپکردار ہیں کہانی کے سب آج شام چپTahir Hanfi (b. 1955)
  6. فلک سے جو ہوئے دھرتی کی نذر سادہ لوگانہی کے غم سے ہیں واقف یہ بے لبادہ لوگTahir Hanfi (b. 1955)
  7. کیسا لہجہ تھا کس حال میں وہ رہی ایک ہی سانس میںکہنے والی کہانی مری کہہ گئی ایک ہی سانس میںTahir Hanfi (b. 1955)
  8. گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحےحسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحےTahir Hanfi (b. 1955)
  9. لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگاپنی تلاش میں ہیں رواں سر بریدہ لوگTahir Hanfi (b. 1955)
  10. مجھ کو گلے لگا کے ہوئی زندگی خموشچپکے سے یوں حیات مری چل بسی خموشTahir Hanfi (b. 1955)
  11. مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلیہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلTahir Hanfi (b. 1955)
  12. مرے بدن پہ سجا ہے برہنگی کا لباسیہی لباس ہوا میری زندگی کا لباسTahir Hanfi (b. 1955)
  13. معجزہ یہ ہے کہ منزل کے نشاں تک پہنچےبرف کے لوگ بھی سورج کے جہاں تک پہنچےTahir Hanfi (b. 1955)
  14. موسموں کے شہر میں پانی کے گھر اگنے لگےچپ ہوا کی کوکھ سے تنہا سفر اگنے لگےTahir Hanfi (b. 1955)
  15. میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤںتو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤںTahir Hanfi (b. 1955)
  16. ندیوں کے پانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیںدرد کی روانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیںTahir Hanfi (b. 1955)
  17. وقت سحر اک ایسی اٹھی روشنی کہ بسجس آنکھ نے بھی دیکھا یوں چندھیا گئی کہ بسTahir Hanfi (b. 1955)
  18. ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسیسہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسیTahir Hanfi (b. 1955)
  19. یخ بستہ باغ میں کوئی تتلی حنوط تھیپھولوں پہ میرے خواب کی مٹی حنوط تھیTahir Hanfi (b. 1955)
  20. دشت جاں میںصلیب انا پرTahir Hanfi (b. 1955)
  21. دھوپ کے سمندر میںبرف کی صلیبوں پرTahir Hanfi (b. 1955)
  22. گئے دنوں کی محبتوں کوصعوبتوں کوTahir Hanfi (b. 1955)
  23. اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگیاس زندگی کے حال پہ حیراں ہے زندگیEjaz Ansari (b. 1955)
  24. بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہےمگر یہ پیار نبھانا بھی اک کمال تو ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  25. تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوںمیں اپنی موت کا اعلان کرنے والا ہوںEjaz Ansari (b. 1955)
  26. خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہےزمانہ جس کے ہنر کی مثال دیتا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  27. راستہ بے زباں بے صدا بھی نہیںکوئی مڑ کر مگر دیکھتا بھی نہیںEjaz Ansari (b. 1955)
  28. زندگی اک سزا لگے ہے مجھےجب سے تو بے وفا لگے ہے مجھےEjaz Ansari (b. 1955)
  29. سب کچھ کاروباری ہےلہجہ تک بازاری ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  30. عجب ہی کیا ہے اگر دھند میں غبار میں ہےوہ شخص اپنے بنائے ہوئے حصار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  31. غم حیات کا منظر بدلنے والا ہےخوشی مناؤ کہ سورج نکلنے والا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  32. کھو جاؤں مشت خاک میں ایسا نہیں ہوں میںدریا ہوں اپنی ذات میں قطرہ نہیں ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
  33. کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گاعمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہو جائے گاEjaz Ansari (b. 1955)
  34. موت ہر لمحہ انتظار میں ہےزندگی آج بھی ادھار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  35. ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جاناگھر سے جانا تو بزرگوں کی دعا لے جاناEjaz Ansari (b. 1955)
  36. ہر اک تحریر نفرت کی مٹانا چاہتا ہوں میںمحبت ہی محبت کا فسانہ چاہتا ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
  37. ہیرا ہے کہ شیشے کا جگر کاٹ رہا ہےبیٹے کی پڑھائی پہ کیا جس نے بہت خرچEjaz Ansari (b. 1955)
  38. یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہےاندھیری رات ہے پھر بھی بہت اجالا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  39. تمام شہر سے میں جنگ جیت سکتا ہوںمگر میں تم سے بچھڑتے ہی ہار جاؤں گاEjaz Ansari (b. 1955)
  40. زندگی دی حساب سے اس نےاور غم بے حساب لکھا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
  41. آج بھر دے اسی مے سے مرا جام اے ساقیعقل جس مے کو سمجھتی ہے حرام اے ساقیZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  42. ڈوب کر خون میں کس رنگ سے پیکاں نکلادل ایذا طلب اب تو ترا ارماں نکلاZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  43. زخم کیوں دل پہ لگاتے ہو جو بھرنے کے نہیںمٹ گئے نقش وفا کے تو ابھرنے کے نہیںZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  44. ستم دوست کا گلہ کیا ہےسنبھل اے دل تجھے کہا کیا ہےZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  45. آدمی کس کا اعتبار کرےجب محبت ہی کو دوام نہیںZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  46. آنکھ والو حسن وحدت کا تماشا کیوں نہ ہودل ہے تو راز حقیقت کی تمنا کیوں نہ ہوZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  47. اے خدا شمع محبت کو فروزاں کر دےداغ دل کو مرے صد رشک گلستاں کر دےZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  48. اے کہ دل تیرا ہے فکر بادۂ گلفام میںزہر بھی ہوتا ہے اکثر خوب صورت جام میںZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  49. اے محبت عجیب چیز ہے توجان و دل سے سوا عزیز ہے توZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
  50. حسن کی مصلحتوں کا ہے تقاضا دل سےکہ نکل جائے غم عشق کا سودا دل سےZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)