Poetry
Poet
Meter
- بات سن اے چشم تر کچھ ہوش کرڈوب جائے گا یہ گھر کچھ ہوش کرTahir Hanfi (b. 1955)
- تمام عمر کا دکھ تھا وبا کے موسم میںمیں اس لیے بھی تھا رویا وبا کے موسم میںTahir Hanfi (b. 1955)
- دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھااک روشنی کا عکس بھی میرے ہنر میں تھاTahir Hanfi (b. 1955)
- دھرتی بھی سینہ زن ہے کہ سچائی چھین لیبارش کی جل ترنگ نے تنہائی چھین لیTahir Hanfi (b. 1955)
- رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپکردار ہیں کہانی کے سب آج شام چپTahir Hanfi (b. 1955)
- فلک سے جو ہوئے دھرتی کی نذر سادہ لوگانہی کے غم سے ہیں واقف یہ بے لبادہ لوگTahir Hanfi (b. 1955)
- کیسا لہجہ تھا کس حال میں وہ رہی ایک ہی سانس میںکہنے والی کہانی مری کہہ گئی ایک ہی سانس میںTahir Hanfi (b. 1955)
- گلی گلی میں اتر چکے ہیں کتاب آنکھوں کے زندہ نوحےحسین چہروں کا سرخ ماتم شراب آنکھوں کے زندہ نوحےTahir Hanfi (b. 1955)
- لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگاپنی تلاش میں ہیں رواں سر بریدہ لوگTahir Hanfi (b. 1955)
- مجھ کو گلے لگا کے ہوئی زندگی خموشچپکے سے یوں حیات مری چل بسی خموشTahir Hanfi (b. 1955)
- مری اداسی کا نقش پا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلیہ غم کی راتوں کو جانتا ہے اداس لفظوں کا ایک جنگلTahir Hanfi (b. 1955)
- مرے بدن پہ سجا ہے برہنگی کا لباسیہی لباس ہوا میری زندگی کا لباسTahir Hanfi (b. 1955)
- معجزہ یہ ہے کہ منزل کے نشاں تک پہنچےبرف کے لوگ بھی سورج کے جہاں تک پہنچےTahir Hanfi (b. 1955)
- موسموں کے شہر میں پانی کے گھر اگنے لگےچپ ہوا کی کوکھ سے تنہا سفر اگنے لگےTahir Hanfi (b. 1955)
- میں تیری آنکھ میں رہ کر حجاب ہو جاؤںتو حرف حرف پڑھے وہ کتاب ہو جاؤںTahir Hanfi (b. 1955)
- ندیوں کے پانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیںدرد کی روانی میں چوڑیاں کھنکتی ہیںTahir Hanfi (b. 1955)
- وقت سحر اک ایسی اٹھی روشنی کہ بسجس آنکھ نے بھی دیکھا یوں چندھیا گئی کہ بسTahir Hanfi (b. 1955)
- ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسیسہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسیTahir Hanfi (b. 1955)
- یخ بستہ باغ میں کوئی تتلی حنوط تھیپھولوں پہ میرے خواب کی مٹی حنوط تھیTahir Hanfi (b. 1955)
- دشت جاں میںصلیب انا پرTahir Hanfi (b. 1955)
- دھوپ کے سمندر میںبرف کی صلیبوں پرTahir Hanfi (b. 1955)
- گئے دنوں کی محبتوں کوصعوبتوں کوTahir Hanfi (b. 1955)
- اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگیاس زندگی کے حال پہ حیراں ہے زندگیEjaz Ansari (b. 1955)
- بچھڑ کے تجھ سے مجھے دکھ تو ہے ملال تو ہےمگر یہ پیار نبھانا بھی اک کمال تو ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- تمام شہر کو حیران کرنے والا ہوںمیں اپنی موت کا اعلان کرنے والا ہوںEjaz Ansari (b. 1955)
- خدا اسے بھی کسی دن زوال دیتا ہےزمانہ جس کے ہنر کی مثال دیتا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- راستہ بے زباں بے صدا بھی نہیںکوئی مڑ کر مگر دیکھتا بھی نہیںEjaz Ansari (b. 1955)
- زندگی اک سزا لگے ہے مجھےجب سے تو بے وفا لگے ہے مجھےEjaz Ansari (b. 1955)
- سب کچھ کاروباری ہےلہجہ تک بازاری ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- عجب ہی کیا ہے اگر دھند میں غبار میں ہےوہ شخص اپنے بنائے ہوئے حصار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- غم حیات کا منظر بدلنے والا ہےخوشی مناؤ کہ سورج نکلنے والا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- کھو جاؤں مشت خاک میں ایسا نہیں ہوں میںدریا ہوں اپنی ذات میں قطرہ نہیں ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
- کیا خبر تھی ایک دن یہ حادثہ ہو جائے گاعمر بھر چاہا جسے وہ بے وفا ہو جائے گاEjaz Ansari (b. 1955)
- موت ہر لمحہ انتظار میں ہےزندگی آج بھی ادھار میں ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جاناگھر سے جانا تو بزرگوں کی دعا لے جاناEjaz Ansari (b. 1955)
- ہر اک تحریر نفرت کی مٹانا چاہتا ہوں میںمحبت ہی محبت کا فسانہ چاہتا ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
- ہیرا ہے کہ شیشے کا جگر کاٹ رہا ہےبیٹے کی پڑھائی پہ کیا جس نے بہت خرچEjaz Ansari (b. 1955)
- یہ تیری یاد ہے تیرا خیال ہے کیا ہےاندھیری رات ہے پھر بھی بہت اجالا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- تمام شہر سے میں جنگ جیت سکتا ہوںمگر میں تم سے بچھڑتے ہی ہار جاؤں گاEjaz Ansari (b. 1955)
- زندگی دی حساب سے اس نےاور غم بے حساب لکھا ہےEjaz Ansari (b. 1955)
- آج بھر دے اسی مے سے مرا جام اے ساقیعقل جس مے کو سمجھتی ہے حرام اے ساقیZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- ڈوب کر خون میں کس رنگ سے پیکاں نکلادل ایذا طلب اب تو ترا ارماں نکلاZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- زخم کیوں دل پہ لگاتے ہو جو بھرنے کے نہیںمٹ گئے نقش وفا کے تو ابھرنے کے نہیںZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- ستم دوست کا گلہ کیا ہےسنبھل اے دل تجھے کہا کیا ہےZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- آدمی کس کا اعتبار کرےجب محبت ہی کو دوام نہیںZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- آنکھ والو حسن وحدت کا تماشا کیوں نہ ہودل ہے تو راز حقیقت کی تمنا کیوں نہ ہوZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- اے خدا شمع محبت کو فروزاں کر دےداغ دل کو مرے صد رشک گلستاں کر دےZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- اے کہ دل تیرا ہے فکر بادۂ گلفام میںزہر بھی ہوتا ہے اکثر خوب صورت جام میںZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- اے محبت عجیب چیز ہے توجان و دل سے سوا عزیز ہے توZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)
- حسن کی مصلحتوں کا ہے تقاضا دل سےکہ نکل جائے غم عشق کا سودا دل سےZafar Ahmad Siddiqi (1955–2020)