یہ وہی گلیاں ہیں جن کی قبروں میں

Paigham Aafaqi (1956–2016)

یہ وہی گلیاں ہیں جن کی قبروں میں

میرا بچپن ہڈیوں کی شکل میں بکھرا پڑا ہے

اور میں جو کچھ بھی تھا

وہ گر چکا ہے

ایک کھنڈر بن چکا ہے

چاندنی کی سانولی کرنوں میں گھبرائی ہوئی

انگنت روحیں

گذشتہ شہروں سے بھاگی ہوئی

اب فساد شہر پہ حیران ششدر

اپنی قبروں پر

پرندوں کی طرح بیٹھی ہوئی

اور ان کی آنکھیں جیسے

طاق میں

گزرے زمانوں کے دیے