Poetry
Poet
Meter
- ہم خدا تھے نہ خدائی اپنیکیا بیاں کرتے بڑائی اپنیParveen Kaif (b. 1956)
- یہ چھوٹا سا مکاں بغیا لگانے کون دیتا ہےدر و دیوار پر سبزہ اگانے کون دیتا ہےParveen Kaif (b. 1956)
- بھرنے کو جو دامن کوئی پھولوں سے چلا ہوکیا جانئے اس شخص کا کیا حال ہوا ہوVazahat Nseem (b. 1956)
- پرکھ سکو تو محبت کا اک مزاج ہیں ہمکل اس طرح نہیں مل پائیں گے جو آج ہیں ہمVazahat Nseem (b. 1956)
- تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گےخدشات کا موسم ہے سوالات تو ہوں گےVazahat Nseem (b. 1956)
- تکلفات میں لمحات مت گنوایا کربلا ارادہ بھی تھوڑا سا مسکرایا کرVazahat Nseem (b. 1956)
- جانے کیا کہتے ہوئے سرو سمن گزرے ہیںکیسے حالات سے گل زیر چمن گزرے ہیںVazahat Nseem (b. 1956)
- دل اتنی کشاکش سے نکل جائے تو اچھایہ پھول کسی آگ میں جل جائے تو اچھاVazahat Nseem (b. 1956)
- دل و نگاہ کو کب ان کا مستقر جاناخیال و خواب کو اک عرصۂ سفر جاناVazahat Nseem (b. 1956)
- سوال شام پہ آیا جواب شب آخرکشیدگی کا نہ پایا مگر سبب آخرVazahat Nseem (b. 1956)
- کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتاوسیع القلب ہونا اس قدر آساں نہیں ہوتاVazahat Nseem (b. 1956)
- کہاں ہوا کے مخالف ہیں بادبان کہوکہیں ملے ہیں محبت کو سائبان کہوVazahat Nseem (b. 1956)
- گزشتہ وقت کی ہر بات آنی جانی ہوئییہ بات اگلے سفر کی نئی نشانی ہوئیVazahat Nseem (b. 1956)
- نظر کے سامنے حسن بہار رہنے دےجمال دید کو پرور دگار رہنے دےVazahat Nseem (b. 1956)
- ہمیں اپنی ذات سے عشق ہوا ہم اپنے لئے بیتاب ہوئےتم لوگ پرائے ہجر میں تھے تم اپنے لئے نایاب ہوئےVazahat Nseem (b. 1956)
- ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائےلب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائےVazahat Nseem (b. 1956)
- یوں تو اونچے اونچے پربتگہرے نیلے آسمان پر دودھیا بادلVazahat Nseem (b. 1956)
- تیرے دل سے اگر اتر جائیںتو ہی بتلا کہ ہم کدھر جائیںVazahat Nseem (b. 1956)
- ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیںسفر حادثوں کے حوالے ہوئے ہیںMadhurima Singh (b. 1956)
- بہت ہیں زندگی میں غم سنو خاموش کیوں ہو تمتمہارے روبرو ہیں ہم سنو خاموش کیوں ہو تمMadhurima Singh (b. 1956)
- پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعدجانے کیوں درپن شرمایا کئی برس کے بعدMadhurima Singh (b. 1956)
- کچھ سفر کا غبار جیسا تھاسانسوں پر اک ادھار جیسا تھاMadhurima Singh (b. 1956)
- میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہےدل کی ہر چٹھی کا کونا پھٹ جاتا ہےMadhurima Singh (b. 1956)
- میری سانسوں سے یوں آئے بھینی بھینی آگ کی خوشبوجوگی کی دھونی سے جیسے اڑتی ہے بیراگ کی خوشبوMadhurima Singh (b. 1956)
- میرے اندر جیسے کوئی ٹھنڈا صحرا جلتا ہےآہٹ آہٹ یوں لگتا ہے مجھ میں کوئی چلتا ہےMadhurima Singh (b. 1956)
- یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہےخطرہ ہے وہ وحشت میرے ملک میں آگ لگائے گیGauhar Raza (b. 1956)
- ایک نظم ایک غزلالجھا الجھا سا کوئیGauhar Raza (b. 1956)
- جب میرے وطن کی گلیوں میںظلمت نے پنکھ پسارے تھےGauhar Raza (b. 1956)
- لو میں نے قلم کو دھو ڈالالو میری زباں پر تالا ہےGauhar Raza (b. 1956)
- سنا ہے رات کے پردے میں صبح سوتی ہےسویرا اٹھ کے دبے پاؤں آئے گا ہم تکGauhar Raza (b. 1956)
- مجھے یقیں تھا کہ مذہبوں سےکوئی بھی رشتہ نہیں ہے ان کاGauhar Raza (b. 1956)
- انا الحق جزو لا ینفک بنا ہے میرے ایقاں کایہی ہے قل ھواللہ احد مستوں کے قرآں کاPandit Tribhuvannath Zutshi Zar Dehlvi (b. 1956)
- فضائے گلشن مقتل نشاط دیدہ و دل ہےکہ جاں پرور بہار سبزۂ شمشیر قاتل ہےPandit Tribhuvannath Zutshi Zar Dehlvi (b. 1956)
- نکھر سنور کر کسی کا جوبن پھبن کے سانچے میں ڈھل رہا ہےجوانی انگڑائی لے رہی ہے شباب کروٹ بدل رہا ہےPandit Tribhuvannath Zutshi Zar Dehlvi (b. 1956)
- اسرار کیسے کھول دوں اس آب و گل کے میںمہکا ہوا ہوں رات کی رانی سے مل کے میںYashab Tamanna (b. 1957)
- ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہےاس غم کی کبھی ہم نے اشاعت نہیں کی ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- بے مہر تعلق تھا جدا ہونا تھا اک دنجو کچھ بھی مرے ساتھ ہوا ہونا تھا اک دنYashab Tamanna (b. 1957)
- پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائیاب لکھیں گے کتاب تنہائیYashab Tamanna (b. 1957)
- ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھیروز ملنے کی پرانی وہی عادت رکھیYashab Tamanna (b. 1957)
- تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہاقسم سفر کی وہی ایک ہم رکاب رہاYashab Tamanna (b. 1957)
- چاہ تھی مہر تھی محبت تھیاس کی ہر بات ہی قیامت تھیYashab Tamanna (b. 1957)
- خواب تعبیر میں بدلتا ہےاس میں لیکن زمانہ لگتا ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- درد کی لہر تھی گزر بھی گئیاس کے ہم راہ چشم تر بھی گئیYashab Tamanna (b. 1957)
- روتا ہوا وہ بام مجھے یاد ہے ابھیدل میں بکھرتی شام مجھے یاد ہے ابھیYashab Tamanna (b. 1957)
- شام کو اس نے میری خاطر سجنا چھوڑ دیامیں نے بھی دفتر سے جلدی آنا چھوڑ دیاYashab Tamanna (b. 1957)
- کچھ بھی نہیں ہے پاس مرے اب سوائے یادشعلہ سا جل رہا ہے در دل متاع یادYashab Tamanna (b. 1957)
- کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہےکسی سفر کا مسافر ہو گھر ہی جاتا ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- کوئی اچھی خبر آتی نہیں ہےشب غم کی سحر آتی نہیں ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- لبوں سے آشنائی دے رہا ہےوہ لذت انتہائی دے رہا ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- موجود تھے وہ میرے ہی اندر کھلے ہوئےمجھ پر دعا کے بعد کھلے در کھلے ہوئےYashab Tamanna (b. 1957)