Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کیا شے ہے کھینچ لیتی ہے شب کو سر فلکپھر صبح جوڑتی ہے دوبارہ زمین سےTafzeel Ahmad (b. 1954)
  2. آسماں سے صحیفے اترتے رہےروشنی سے مگر لوگ ڈرتے رہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  3. آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیںعکس کی تہہ سے ابھرنا اتنا آساں بھی نہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
  4. اک تعلق سا کسی نام سے جب ہوتا ہےبے سبب بھی کوئی جینے کا سبب ہوتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  5. اکثر تنہائی سے مل کر روئے ہیںہم نے اپنے اشک آگ سے دھوئے ہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
  6. اکثر مری زمیں نے مرے امتحاں لئےزندہ ہوں اپنے سر پہ کئی آسماں لئےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  7. اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دیناتعلقات کو نزدیک سے صدا دیناUsha Bhadoriya (b. 1954)
  8. ایک آشنا اکثر پاس سے گزرتا ہےمجھ پہ میری سچائی آشکار کرتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  9. روح میں جب بھی مہکتی ہے صدائے احساسلفظ تا لفظ ٹپکتی ہے صدائے احساسUsha Bhadoriya (b. 1954)
  10. کچھ تو محبتوں کی وفائیں نبھاؤں میںشاداب بارشوں کی ہوائیں نبھاؤں میںUsha Bhadoriya (b. 1954)
  11. کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہریمیں اپنے آپ میں ڈوبی تو بے صدا ٹھہریUsha Bhadoriya (b. 1954)
  12. وہ آنکھ دے قریب کا سایہ دکھائی دےآواز روشنی کی کہیں تو سنائی دےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  13. ہم کبھی خود سے کوئی بات نہیں کر پاتےزندگی تجھ سے ملاقات نہیں کر پاتےUsha Bhadoriya (b. 1954)
  14. اب تو وہ شخص زمانے میں اثر رکھتا ہےدس سے جو بیس بنانے کا ہنر رکھتا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
  15. اجالوں کا اگر دشمن نہیں ہےاندھیروں سے بھی وہ بد ظن نہیں ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
  16. پہن کر دست و پا میں آہنی زیور نکلتے ہیںترے وحشی بہ سوئے دار بن ٹھن کر نکلتے ہیںZafar Siddiqui (b. 1954)
  17. تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیامر گئی پیاس تو حصے میں سمندر آیاZafar Siddiqui (b. 1954)
  18. تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھاخطا یہی تھی کہ لہجہ پر التماس نہ تھاZafar Siddiqui (b. 1954)
  19. تو مطمئن ہے تو آخر یہ حال کیسا ہےزبان چپ ہے نظر میں سوال کیسا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
  20. جس جگہ رہنا سمندر رہنااور پیاسوں کو میسر رہناZafar Siddiqui (b. 1954)
  21. جس طرف جائیے ملتے ہیں عداوت والےاٹھ گئے دنیا سے کیا لوگ محبت والےZafar Siddiqui (b. 1954)
  22. زہر ساعت ہی پئیں جسم تہ خاک تو ہوسرد آنکھوں میں کوئی خواہش ناپاک تو ہوZafar Siddiqui (b. 1954)
  23. شاید ایسا شخص ہمارا پورا خواب کرےپتھر کو جو موم بنائے آہن آب کرےZafar Siddiqui (b. 1954)
  24. عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگسایۂ دیوار کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں لوگZafar Siddiqui (b. 1954)
  25. ہاتھ آیا آسماں تو زمیں کا نہیں رہاپھر یہ ہوا وہ شخص کہیں کا نہیں رہاZafar Siddiqui (b. 1954)
  26. اس چمن زار کو صحرا نہ بناؤ یارواپنے ہاتھوں سے نشیمن نہ جلاؤ یاروdagh Niyazi (b. 1954)
  27. بہار نام ہے موسم کے رخ بدلنے کالو وقت آ گیا باغوں میں آم پھلنے کاdagh Niyazi (b. 1954)
  28. تجھ سے ہم دم مجھ کو الفت ہے بہتتیری الفت وجہ راحت ہے بہتdagh Niyazi (b. 1954)
  29. تخت و تاج اور نہ کچھ مال و زر چاہیےمجھ کو تو صرف اس کی خبر چاہئےdagh Niyazi (b. 1954)
  30. جب تلک بے خودی نہیں ہوتیعشق میں چاشنی نہیں ہوتیdagh Niyazi (b. 1954)
  31. دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کےہیں کرم کی طرح ستم اس کےdagh Niyazi (b. 1954)
  32. دل یاد کرکے اس کو پریشان ہے ابھیلیکن وہ میرے حال سے انجان ہے ابھیdagh Niyazi (b. 1954)
  33. زندہ دلی نشانۂ تحقیر کس لیےکھنچتی نہیں حیات کی تصویر کس لیےdagh Niyazi (b. 1954)
  34. نکہت و نور کا سماں ہوگااس کا چرچا جہاں جہاں ہوگاdagh Niyazi (b. 1954)
  35. وجود اس سے ہمارا کہیں جدا نہ لگےوہ ساتھ ساتھ رہے اور ہمیں پتا نہ لگےdagh Niyazi (b. 1954)
  36. اپنے دل کا حال سنانا کم سے کمآنکھوں میں آنسو بھی لانا کم سے کمMadho Kaushik (b. 1954)
  37. جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائیپھیلا گئی ہے پورے گھر میں تنہائیMadho Kaushik (b. 1954)
  38. جینا اگر ضرورت ہےمرنا تلخ حقیقت ہےMadho Kaushik (b. 1954)
  39. سفر ٹھہرے تو کچھ منزل کی سوچوںذہن خاموش ہو تو دل کی سوچوںMadho Kaushik (b. 1954)
  40. کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہےتمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہےMadho Kaushik (b. 1954)
  41. کیوں شور مچاتے ہو بے کار میں پہلے سےجب جھوٹ ہی چھپتا ہے اخبار میں پہلے سےMadho Kaushik (b. 1954)
  42. ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کیکہانی تو سناؤ دل جلوں کیMadho Kaushik (b. 1954)
  43. ہر لمحہ بیگانہ ہےپر کسنے پہچانا ہےMadho Kaushik (b. 1954)
  44. دشت کو برگ و بار کون کرےسینے کو لالہ زار کون کرےNaeema Jafri Pasha (b. 1954)
  45. وہی ہے مے وہی شیشہ وہی ہے پیمانہپہ مے کشی کے جو آداب تھے وہ بدلے گئےNaeema Jafri Pasha (b. 1954)
  46. یہ جہان رنگ و بو تیری دل لگی بھی ہےپوچھ اپنے بندوں سے جن کی بے بسی بھی ہےNaeema Jafri Pasha (b. 1954)
  47. جب بھی اس کا خیال کرتا ہوںاپنی غزلوں میں رنگ بھرتا ہوںEjaz Ali Arshad (b. 1954)
  48. ہے نام تو خورشید خاںکہتے ہیں سب جلدی میاںKaleem Chughtai (b. 1954)
  49. آگ کے صفحے پہ نقش ما و من رہ جائے گاراکھ میں سچائی کا زندہ بدن رہ جائے گاTahir Hanfi (b. 1955)
  50. اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پراور دل کی زبانی ہے اوراق شکستہ پرTahir Hanfi (b. 1955)