Poetry
Poet
Meter
- کیا شے ہے کھینچ لیتی ہے شب کو سر فلکپھر صبح جوڑتی ہے دوبارہ زمین سےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- آسماں سے صحیفے اترتے رہےروشنی سے مگر لوگ ڈرتے رہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیںعکس کی تہہ سے ابھرنا اتنا آساں بھی نہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اک تعلق سا کسی نام سے جب ہوتا ہےبے سبب بھی کوئی جینے کا سبب ہوتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اکثر تنہائی سے مل کر روئے ہیںہم نے اپنے اشک آگ سے دھوئے ہیںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اکثر مری زمیں نے مرے امتحاں لئےزندہ ہوں اپنے سر پہ کئی آسماں لئےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اندھیری شب میں چراغ رہ وفا دیناتعلقات کو نزدیک سے صدا دیناUsha Bhadoriya (b. 1954)
- ایک آشنا اکثر پاس سے گزرتا ہےمجھ پہ میری سچائی آشکار کرتا ہےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- روح میں جب بھی مہکتی ہے صدائے احساسلفظ تا لفظ ٹپکتی ہے صدائے احساسUsha Bhadoriya (b. 1954)
- کچھ تو محبتوں کی وفائیں نبھاؤں میںشاداب بارشوں کی ہوائیں نبھاؤں میںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- کہیں دعا تو کہیں حرف التجا ٹھہریمیں اپنے آپ میں ڈوبی تو بے صدا ٹھہریUsha Bhadoriya (b. 1954)
- وہ آنکھ دے قریب کا سایہ دکھائی دےآواز روشنی کی کہیں تو سنائی دےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- ہم کبھی خود سے کوئی بات نہیں کر پاتےزندگی تجھ سے ملاقات نہیں کر پاتےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- اب تو وہ شخص زمانے میں اثر رکھتا ہےدس سے جو بیس بنانے کا ہنر رکھتا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
- اجالوں کا اگر دشمن نہیں ہےاندھیروں سے بھی وہ بد ظن نہیں ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
- پہن کر دست و پا میں آہنی زیور نکلتے ہیںترے وحشی بہ سوئے دار بن ٹھن کر نکلتے ہیںZafar Siddiqui (b. 1954)
- تشنگی میں کوئی قطرہ نہ میسر آیامر گئی پیاس تو حصے میں سمندر آیاZafar Siddiqui (b. 1954)
- تمام شہر میں کوئی بھی روشناس نہ تھاخطا یہی تھی کہ لہجہ پر التماس نہ تھاZafar Siddiqui (b. 1954)
- تو مطمئن ہے تو آخر یہ حال کیسا ہےزبان چپ ہے نظر میں سوال کیسا ہےZafar Siddiqui (b. 1954)
- جس جگہ رہنا سمندر رہنااور پیاسوں کو میسر رہناZafar Siddiqui (b. 1954)
- جس طرف جائیے ملتے ہیں عداوت والےاٹھ گئے دنیا سے کیا لوگ محبت والےZafar Siddiqui (b. 1954)
- زہر ساعت ہی پئیں جسم تہ خاک تو ہوسرد آنکھوں میں کوئی خواہش ناپاک تو ہوZafar Siddiqui (b. 1954)
- شاید ایسا شخص ہمارا پورا خواب کرےپتھر کو جو موم بنائے آہن آب کرےZafar Siddiqui (b. 1954)
- عمر بھر کے خواب کا حاصل سمجھ بیٹھے ہیں لوگسایۂ دیوار کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں لوگZafar Siddiqui (b. 1954)
- ہاتھ آیا آسماں تو زمیں کا نہیں رہاپھر یہ ہوا وہ شخص کہیں کا نہیں رہاZafar Siddiqui (b. 1954)
- اس چمن زار کو صحرا نہ بناؤ یارواپنے ہاتھوں سے نشیمن نہ جلاؤ یاروdagh Niyazi (b. 1954)
- بہار نام ہے موسم کے رخ بدلنے کالو وقت آ گیا باغوں میں آم پھلنے کاdagh Niyazi (b. 1954)
- تجھ سے ہم دم مجھ کو الفت ہے بہتتیری الفت وجہ راحت ہے بہتdagh Niyazi (b. 1954)
- تخت و تاج اور نہ کچھ مال و زر چاہیےمجھ کو تو صرف اس کی خبر چاہئےdagh Niyazi (b. 1954)
- جب تلک بے خودی نہیں ہوتیعشق میں چاشنی نہیں ہوتیdagh Niyazi (b. 1954)
- دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کےہیں کرم کی طرح ستم اس کےdagh Niyazi (b. 1954)
- دل یاد کرکے اس کو پریشان ہے ابھیلیکن وہ میرے حال سے انجان ہے ابھیdagh Niyazi (b. 1954)
- زندہ دلی نشانۂ تحقیر کس لیےکھنچتی نہیں حیات کی تصویر کس لیےdagh Niyazi (b. 1954)
- نکہت و نور کا سماں ہوگااس کا چرچا جہاں جہاں ہوگاdagh Niyazi (b. 1954)
- وجود اس سے ہمارا کہیں جدا نہ لگےوہ ساتھ ساتھ رہے اور ہمیں پتا نہ لگےdagh Niyazi (b. 1954)
- اپنے دل کا حال سنانا کم سے کمآنکھوں میں آنسو بھی لانا کم سے کمMadho Kaushik (b. 1954)
- جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائیپھیلا گئی ہے پورے گھر میں تنہائیMadho Kaushik (b. 1954)
- جینا اگر ضرورت ہےمرنا تلخ حقیقت ہےMadho Kaushik (b. 1954)
- سفر ٹھہرے تو کچھ منزل کی سوچوںذہن خاموش ہو تو دل کی سوچوںMadho Kaushik (b. 1954)
- کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہےتمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہےMadho Kaushik (b. 1954)
- کیوں شور مچاتے ہو بے کار میں پہلے سےجب جھوٹ ہی چھپتا ہے اخبار میں پہلے سےMadho Kaushik (b. 1954)
- ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کیکہانی تو سناؤ دل جلوں کیMadho Kaushik (b. 1954)
- ہر لمحہ بیگانہ ہےپر کسنے پہچانا ہےMadho Kaushik (b. 1954)
- دشت کو برگ و بار کون کرےسینے کو لالہ زار کون کرےNaeema Jafri Pasha (b. 1954)
- وہی ہے مے وہی شیشہ وہی ہے پیمانہپہ مے کشی کے جو آداب تھے وہ بدلے گئےNaeema Jafri Pasha (b. 1954)
- یہ جہان رنگ و بو تیری دل لگی بھی ہےپوچھ اپنے بندوں سے جن کی بے بسی بھی ہےNaeema Jafri Pasha (b. 1954)
- جب بھی اس کا خیال کرتا ہوںاپنی غزلوں میں رنگ بھرتا ہوںEjaz Ali Arshad (b. 1954)
- ہے نام تو خورشید خاںکہتے ہیں سب جلدی میاںKaleem Chughtai (b. 1954)
- آگ کے صفحے پہ نقش ما و من رہ جائے گاراکھ میں سچائی کا زندہ بدن رہ جائے گاTahir Hanfi (b. 1955)
- اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پراور دل کی زبانی ہے اوراق شکستہ پرTahir Hanfi (b. 1955)