وجود اس سے ہمارا کہیں جدا نہ لگے

dagh Niyazi (b. 1954)

وجود اس سے ہمارا کہیں جدا نہ لگے

وہ ساتھ ساتھ رہے اور ہمیں پتا نہ لگے

وقار میں جو اضافہ ہے آپ کو منظور

سنبھل کے چلئے جہاں کی کہیں ہوا نہ لگے

فریب و مکر پہ انعام لوگ پاتے ہیں

میں بات سچ بھی کہوں اور تازیانہ لگے

ہماری ذات سے پہلے گریز تھا اس کو

اب اعتراف نوازش اسے برا نہ لگے

الٰہی تجھ سے گزارش ہے بار بار یہی

مرے صنم کو کسی کی بھی بد دعا نہ لگے

جزیرہ دل کا ہے سونا تمہاری یاد بغیر

چلے بھی آؤ کہ موسم بڑا سہانا لگے

وہ بھول سکتا ہے اے داغؔ مجھ کو جلد مگر

اسے بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے