اب تو وہ شخص زمانے میں اثر رکھتا ہے

Zafar Siddiqui (b. 1954)

اب تو وہ شخص زمانے میں اثر رکھتا ہے

دس سے جو بیس بنانے کا ہنر رکھتا ہے

اپنے کردار سے ہوتی ہے شکایت جس کو

اپنے بچوں پہ بڑی سخت نظر رکھتا ہے

وقت کے ساتھ نہ بدلا مرے قاتل کا مزاج

آج بھی ہونٹ مرے خون سے تر رکھتا ہے

اس کو بھی لوگ اندھیروں سے ڈرانے نکلے

دسترس میں جو کئی شمس و قمر رکھتا ہے

اب کا انسان ہے ایسا کہ یقین آتا نہیں

مرتبہ اونچا فرشتوں سے بشر رکھتا ہے

اب کے بوچھار بہت ہوگی ظفرؔ تیروں سے

وہ چلے ساتھ جو پتھر کا جگر رکھتا ہے