جس طرف جائیے ملتے ہیں عداوت والے

Zafar Siddiqui (b. 1954)

جس طرف جائیے ملتے ہیں عداوت والے

اٹھ گئے دنیا سے کیا لوگ محبت والے

دوستو تم ہو اگر چشم عنایت والے

ہم بھی کچھ کم نہیں خوددار طبیعت والے

اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں مقدر اپنا

گردش وقت سے ڈرتے نہیں ہمت والے

موج ساحل کا بھی سر توڑ کے رکھ دیتی ہے

کیا سمجھتے ہیں غریبوں کو یہ دولت والے

جتنے بونے تھے انہیں تمغہ و اعزاز ملا

اور چپ رہ گئے اونچے قد و قامت والے

ابتدا ہی میں یہ وحشت یہ بدن میں لرزش

مرحلہ اور بھی آئیں گے مصیبت والے

منزل دار پہ اک میں ہی اکیلا پہنچا

گھر سے نکلے تھے بہت شوق شہادت والے

تلخ باتوں کو بھی سہہ لیتے ہیں چپ چاپ ظفرؔ

منہ کمینوں سے لگاتے نہیں عزت والے