زندہ دلی نشانۂ تحقیر کس لیے
dagh Niyazi (b. 1954)زندہ دلی نشانۂ تحقیر کس لیے
کھنچتی نہیں حیات کی تصویر کس لیے
شاخ شجر پہ ہوتی تو کچھ اور بات تھی
موجوں پہ آشیانے کی تعمیر کس لئے
کیا تو نے پیروی نبی چھوڑ دی ہے اب
بے فیض ہو گئی تری تقریر کس لیے
اہل شعور جو تھے وہ پستی میں کھو گئے
بے ڈھنگ لوگ پا گئے توقیر کس لیے
طوفان کا خیال ہے یا زلزلے کا خوف
تیرے لبوں پہ نالۂ شب گیر کس لیے
مشہور تھیں زمانے میں شیریں بیانیاں
اب کھو گئی زبان کی تاثیر کس لیے
تا صبح تو نے خواب ہی دیکھا نہ رات کو
پھر پوچھتا ہے خواب کی تعبیر کس لیے
منزل ہے داغؔ سامنے اپنے قدم بڑھاؤ
تم دیکھتے ہو جانب رہ گیر کس لیے