ہاتھ آیا آسماں تو زمیں کا نہیں رہا
Zafar Siddiqui (b. 1954)ہاتھ آیا آسماں تو زمیں کا نہیں رہا
پھر یہ ہوا وہ شخص کہیں کا نہیں رہا
اب کے مہاجروں کا وہ ریلا تھا گاؤں میں
چھوٹا سا ایک مکاں بھی مکیں کا نہیں رہا
اپنے پڑوسیوں پہ مجھے اعتماد ہے
یہ وقت بھائیوں پہ یقین کا نہیں رہا
دیکھا تو سارے لوگ عبادت گزار تھے
پرکھا تو کوئی خلد بریں کا نہیں رہا
میں نے تمام عمر سخاوت میں کاٹ دی
میرے لبوں پہ حرف نہیں کا نہیں رہا
ظلمات زندگی میں بھٹکتے رہے ظفرؔ
جب ساتھ اک ستارہ جبیں کا نہیں رہا