Poetry
Poet
Meter
- ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میںگھروں کے سپنے ہیں نامکملMah Talat Zahidi (1953–2020)
- تجھے چھو کر بہار آئی تھیکنج غم میں برسا تھاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- راگ ڈوب جاتے ہیںساز ٹوٹ جاتے ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- روز و شبحلقۂ آفات ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- ہر ایک رات کے پہلو سے دن نکلتا ہےوہ لوگ کیسے سنور جائیں جو تباہ نہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- یاد کے خوش نما جزیروں میںدل کی آوارگی سی رہتی ہےMah Talat Zahidi (1953–2020)
- اسی سے فکر و فن کو ہر گھڑی منسوب رکھتے ہیںزباں کی چاشنی سے تر بہ تر غزلوں کو پڑھتا ہوںFaIyaz Rashk (b. 1953)
- جاری تو ہو سب کے لئے فرمان محبتکر دیجئے دل سے ذرا اعلان محبتFaIyaz Rashk (b. 1953)
- جہاں میں خود کو بنانے میں دیر لگتی ہےکسی مقام پہ آنے میں دیر لگتی ہےFaIyaz Rashk (b. 1953)
- خیال و خواب کو پرواز دیتا رہتا ہوںمیں اپنے آپ کو آواز دیتا رہتا ہوںFaIyaz Rashk (b. 1953)
- طاقت کے سارے زور کو خاموش کر دیاخاموشیوں نے شور کو خاموش کر دیاFaIyaz Rashk (b. 1953)
- مٹا کے تیرگی تنویر چاہتا ہے دلہر ایک خواب کی تعبیر چاہتا ہے دلFaIyaz Rashk (b. 1953)
- ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہےروشنی میں بھی اندھیروں کا سفر جاری ہےFaIyaz Rashk (b. 1953)
- بجھا چکی ہے ہوا جس کو وہ دیا بھی میںمگر یہ دیکھ بہت دیر تک جلا بھی میںM R Qasmi (b. 1953)
- اف یہ دل حادثوں سے ابھرتا نہیںکیوں یہ کمبخت مقدر سنورتا نہیںDeepak Purohit (b. 1954)
- تو کیا رابطہ پھر خدا کا بشر سےتعلق نہیں جب دعا کا اثر سےDeepak Purohit (b. 1954)
- میں مدت سے تری آمد کا یوں عالم سجائے ہوںعجب ہے بے خودی دہلیز پہ نظریں جمائے ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
- نہ لازم توقع ہے اہل محل سےکرو زیست شاداب علم و عمل سےDeepak Purohit (b. 1954)
- اچھا ہوا زبان خموشی نہ تم پڑھےشکوے مرے وگرنہ رلاتے تمہیں بہتDeepak Purohit (b. 1954)
- ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاںنمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاںDeepak Purohit (b. 1954)
- ایک عمر بھر میں طے یہ سفر مختصر ہواشہر خموشاں گھر سے بہت دور تو نہ تھاDeepak Purohit (b. 1954)
- تو بچ رہے گا یقیناً یہ صرف آنکھوں میںبچایا تم نے نہ پانی جو وقت کے رہتےDeepak Purohit (b. 1954)
- تھا کبھی ان کی نگاہوں میں بلند اپنا مقاماتنی اونچائی سے گر کر بھی کوئی بچتا ہےDeepak Purohit (b. 1954)
- جب آنا خواب میں ہولے سے نرمی سے قدم رکھناگراں ہے اک ذرا آہٹ ترے محو تصور کوDeepak Purohit (b. 1954)
- خوب رو کون یہ آیا چمن میں آج کہ یاںشرم سے سرخ ہوئے جاتے ہیں یہ پھول سبھیDeepak Purohit (b. 1954)
- خوشامد تابع داری منت و خدمت سجود حسنازل سے دیدنی ہے بے بسی و عاجزیٔ عشقDeepak Purohit (b. 1954)
- سیہ بختی کا سایہ دیدہ و دل پر ہے یوں تاریکہ اک مدت سے میرے دن بھی کجلائے ہوئے سے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
- عجب چلن ہے یہ بازار عشق کا کہ یہاںچونی چلتی ہے روپیے میں حسن والوں کیDeepak Purohit (b. 1954)
- کہاں جرأت ان اشکوں کی کہ دہری آنکھ کی لانگھیںہے پہرا ضبط کا ایسا کہ سہمے سہمے رہتے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
- کہ ہے مختصر داستاں عشق کیگلے مل کے کوئی گلے پڑ گیاDeepak Purohit (b. 1954)
- لمحات وصل یاد جو آئے شب فراقیک لخت سرخ ہو گئے عارض بے اختیارDeepak Purohit (b. 1954)
- وطن پرستی ہمارا مذہب ہیں جسم و جاں ملک کی امانتکریں گے برپا قہر عدو پر رہے گا دائم وطن سلامتDeepak Purohit (b. 1954)
- ہوس زر نے کیا رشتوں کا جو حال نہ پوچھخوں رلاتا ہے یہاں خون کا رشتہ اپناDeepak Purohit (b. 1954)
- ہے خوب منظر چارہ گری کہ ہم نے یہاںدعا کے در پہ ہے دیکھا دوا کو سجدے میںDeepak Purohit (b. 1954)
- یوں گفتگوئے الفت دلچسپ ہم کریں گےآنکھوں سے تم کہو گے آنکھوں سے ہم سنیں گےDeepak Purohit (b. 1954)
- یہ کیسی بد دعا دی ہے کسی نےسمندر ہوں مگر کھارا ہوا ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
- اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگعمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگTafzeel Ahmad (b. 1954)
- پہاڑوں کو بچھا دیتے کہیں کھائی نہیں ملتیمگر اونچے قدم رکھنے کو اونچائی نہیں ملتیTafzeel Ahmad (b. 1954)
- تنہا کر کے مجھ کو صلیب سوال پہ چھوڑ دیامیں نے بھی دنیا کو اس کے حال پہ چھوڑ دیاTafzeel Ahmad (b. 1954)
- خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دےتصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- ستم ظریفی کی صورت نکل ہی آتی ہےرقیب کی بھی ضرورت نکل ہی آتی ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیزبلیاں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کھنڈر میں کوئی چیزTafzeel Ahmad (b. 1954)
- کشتیوں کے کھلکھلاتے بادبانوں کی طرحرات بھر اگتے ہیں چہرے گم خزانوں کی طرحTafzeel Ahmad (b. 1954)
- گھنے ارمان گاڑھی آرزو کرنے سے ملتا ہےخدا جاڑے کی راتوں میں وضو کرنے سے ملتا ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- لب منطق رہے کوئی نہ چشم لن ترانی ہوزمیں پھر سے مرتب ہو فلک پر نظر ثانی ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
- لہروں میں بھنور نکلیں گے محور نہ ملے گاہر موج میں پانی بھی برابر نہ ملے گاTafzeel Ahmad (b. 1954)
- محور پہ بھی گردش مری محور سے الگ ہواس بحر میں تیروں جو سمندر سے الگ ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
- ملا کسی سے نہ اچھا لگا سخن اس باربنا ہے لاشوں کے اعضا سے یہ بدن اس بارTafzeel Ahmad (b. 1954)
- وہی بے لباس کیاریاں کہیں بیل بوٹوں کے بل نہیںتجھے کیا بلاؤں میں باغ میں کسی پیڑ پر کوئی پھل نہیںTafzeel Ahmad (b. 1954)
- فرات چشم پہ ہے کربلا کی طغیانیدرون کوفۂ دل عید کرنے آیا ہوںTafzeel Ahmad (b. 1954)