Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میںگھروں کے سپنے ہیں نامکملMah Talat Zahidi (1953–2020)
  2. تجھے چھو کر بہار آئی تھیکنج غم میں برسا تھاMah Talat Zahidi (1953–2020)
  3. راگ ڈوب جاتے ہیںساز ٹوٹ جاتے ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
  4. روز و شبحلقۂ آفات ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
  5. ہر ایک رات کے پہلو سے دن نکلتا ہےوہ لوگ کیسے سنور جائیں جو تباہ نہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
  6. یاد کے خوش نما جزیروں میںدل کی آوارگی سی رہتی ہےMah Talat Zahidi (1953–2020)
  7. اسی سے فکر و فن کو ہر گھڑی منسوب رکھتے ہیںزباں کی چاشنی سے تر بہ تر غزلوں کو پڑھتا ہوںFaIyaz Rashk (b. 1953)
  8. جاری تو ہو سب کے لئے فرمان محبتکر دیجئے دل سے ذرا اعلان محبتFaIyaz Rashk (b. 1953)
  9. جہاں میں خود کو بنانے میں دیر لگتی ہےکسی مقام پہ آنے میں دیر لگتی ہےFaIyaz Rashk (b. 1953)
  10. خیال و خواب کو پرواز دیتا رہتا ہوںمیں اپنے آپ کو آواز دیتا رہتا ہوںFaIyaz Rashk (b. 1953)
  11. طاقت کے سارے زور کو خاموش کر دیاخاموشیوں نے شور کو خاموش کر دیاFaIyaz Rashk (b. 1953)
  12. مٹا کے تیرگی تنویر چاہتا ہے دلہر ایک خواب کی تعبیر چاہتا ہے دلFaIyaz Rashk (b. 1953)
  13. ہر قدم خوف ہے دہشت ہے ریاکاری ہےروشنی میں بھی اندھیروں کا سفر جاری ہےFaIyaz Rashk (b. 1953)
  14. بجھا چکی ہے ہوا جس کو وہ دیا بھی میںمگر یہ دیکھ بہت دیر تک جلا بھی میںM R Qasmi (b. 1953)
  15. اف یہ دل حادثوں سے ابھرتا نہیںکیوں یہ کمبخت مقدر سنورتا نہیںDeepak Purohit (b. 1954)
  16. تو کیا رابطہ پھر خدا کا بشر سےتعلق نہیں جب دعا کا اثر سےDeepak Purohit (b. 1954)
  17. میں مدت سے تری آمد کا یوں عالم سجائے ہوںعجب ہے بے خودی دہلیز پہ نظریں جمائے ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
  18. نہ لازم توقع ہے اہل محل سےکرو زیست شاداب علم و عمل سےDeepak Purohit (b. 1954)
  19. اچھا ہوا زبان خموشی نہ تم پڑھےشکوے مرے وگرنہ رلاتے تمہیں بہتDeepak Purohit (b. 1954)
  20. ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاںنمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاںDeepak Purohit (b. 1954)
  21. ایک عمر بھر میں طے یہ سفر مختصر ہواشہر خموشاں گھر سے بہت دور تو نہ تھاDeepak Purohit (b. 1954)
  22. تو بچ رہے گا یقیناً یہ صرف آنکھوں میںبچایا تم نے نہ پانی جو وقت کے رہتےDeepak Purohit (b. 1954)
  23. تھا کبھی ان کی نگاہوں میں بلند اپنا مقاماتنی اونچائی سے گر کر بھی کوئی بچتا ہےDeepak Purohit (b. 1954)
  24. جب آنا خواب میں ہولے سے نرمی سے قدم رکھناگراں ہے اک ذرا آہٹ ترے محو تصور کوDeepak Purohit (b. 1954)
  25. خوب رو کون یہ آیا چمن میں آج کہ یاںشرم سے سرخ ہوئے جاتے ہیں یہ پھول سبھیDeepak Purohit (b. 1954)
  26. خوشامد تابع داری منت و خدمت سجود حسنازل سے دیدنی ہے بے بسی و عاجزیٔ عشقDeepak Purohit (b. 1954)
  27. سیہ بختی کا سایہ دیدہ و دل پر ہے یوں تاریکہ اک مدت سے میرے دن بھی کجلائے ہوئے سے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
  28. عجب چلن ہے یہ بازار عشق کا کہ یہاںچونی چلتی ہے روپیے میں حسن والوں کیDeepak Purohit (b. 1954)
  29. کہاں جرأت ان اشکوں کی کہ دہری آنکھ کی لانگھیںہے پہرا ضبط کا ایسا کہ سہمے سہمے رہتے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
  30. کہ ہے مختصر داستاں عشق کیگلے مل کے کوئی گلے پڑ گیاDeepak Purohit (b. 1954)
  31. لمحات وصل یاد جو آئے شب فراقیک لخت سرخ ہو گئے عارض بے اختیارDeepak Purohit (b. 1954)
  32. وطن پرستی ہمارا مذہب ہیں جسم و جاں ملک کی امانتکریں گے برپا قہر عدو پر رہے گا دائم وطن سلامتDeepak Purohit (b. 1954)
  33. ہوس زر نے کیا رشتوں کا جو حال نہ پوچھخوں رلاتا ہے یہاں خون کا رشتہ اپناDeepak Purohit (b. 1954)
  34. ہے خوب منظر چارہ گری کہ ہم نے یہاںدعا کے در پہ ہے دیکھا دوا کو سجدے میںDeepak Purohit (b. 1954)
  35. یوں گفتگوئے الفت دلچسپ ہم کریں گےآنکھوں سے تم کہو گے آنکھوں سے ہم سنیں گےDeepak Purohit (b. 1954)
  36. یہ کیسی بد دعا دی ہے کسی نےسمندر ہوں مگر کھارا ہوا ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
  37. اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگعمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگTafzeel Ahmad (b. 1954)
  38. پہاڑوں کو بچھا دیتے کہیں کھائی نہیں ملتیمگر اونچے قدم رکھنے کو اونچائی نہیں ملتیTafzeel Ahmad (b. 1954)
  39. تنہا کر کے مجھ کو صلیب سوال پہ چھوڑ دیامیں نے بھی دنیا کو اس کے حال پہ چھوڑ دیاTafzeel Ahmad (b. 1954)
  40. خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دےتصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دےTafzeel Ahmad (b. 1954)
  41. ستم ظریفی کی صورت نکل ہی آتی ہےرقیب کی بھی ضرورت نکل ہی آتی ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
  42. شہر کو چوٹ پہ رکھتی ہے گجر میں کوئی چیزبلیاں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کھنڈر میں کوئی چیزTafzeel Ahmad (b. 1954)
  43. کشتیوں کے کھلکھلاتے بادبانوں کی طرحرات بھر اگتے ہیں چہرے گم خزانوں کی طرحTafzeel Ahmad (b. 1954)
  44. گھنے ارمان گاڑھی آرزو کرنے سے ملتا ہےخدا جاڑے کی راتوں میں وضو کرنے سے ملتا ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
  45. لب منطق رہے کوئی نہ چشم لن ترانی ہوزمیں پھر سے مرتب ہو فلک پر نظر ثانی ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
  46. لہروں میں بھنور نکلیں گے محور نہ ملے گاہر موج میں پانی بھی برابر نہ ملے گاTafzeel Ahmad (b. 1954)
  47. محور پہ بھی گردش مری محور سے الگ ہواس بحر میں تیروں جو سمندر سے الگ ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
  48. ملا کسی سے نہ اچھا لگا سخن اس باربنا ہے لاشوں کے اعضا سے یہ بدن اس بارTafzeel Ahmad (b. 1954)
  49. وہی بے لباس کیاریاں کہیں بیل بوٹوں کے بل نہیںتجھے کیا بلاؤں میں باغ میں کسی پیڑ پر کوئی پھل نہیںTafzeel Ahmad (b. 1954)
  50. فرات چشم پہ ہے کربلا کی طغیانیدرون کوفۂ دل عید کرنے آیا ہوںTafzeel Ahmad (b. 1954)