تجھ سے ہم دم مجھ کو الفت ہے بہت

dagh Niyazi (b. 1954)

تجھ سے ہم دم مجھ کو الفت ہے بہت

تیری الفت وجہ راحت ہے بہت

تم ابھی تو آئے ہو میرے قریب

کس لیے جانے کی عجلت ہے بہت

صورت پروانہ مٹ جاؤں گا میں

مجھ میں مٹ جانے کی ہمت ہے بہت

تیرے رخ سے مانگ لائے ہیں نکھار

اس لئے پھولوں میں رنگت ہے بہت

بستیوں میں آ گئے ہیں بھیڑیے

شہر میں ہر سمت دہشت ہے بہت

داغؔ باقی ہے ابھی کیا برہمی

ظلم کی مجھ پر جو شدت ہے بہت