دل یاد کرکے اس کو پریشان ہے ابھی
dagh Niyazi (b. 1954)دل یاد کرکے اس کو پریشان ہے ابھی
لیکن وہ میرے حال سے انجان ہے ابھی
رخصت وہ جانے کب کا مرے گھر سے ہو گیا
میں دیکھتا ہوں دل میں وہ مہمان ہے ابھی
میں چادر سکون بھلا کیسے اوڑھ لوں
جب حادثوں کا شہر میں امکان ہے ابھی
چھوڑیں گے ہم نہ راہ وفا و خلوص کو
دیکھو ہمارے ہاتھ میں قرآن ہے ابھی
ظلم و ستم وہ حد سے سوا کر سکے گا کیا
ہر اک غریب بے سر و سامان ہے ابھی
اک ایک قطرہ اپنے لہو کا بہاؤں گا
تو آزما لے تن میں مرے جان ہے ابھی
بنیاد تجھ سے ظلم و ستم کی پڑی مگر
مہر و وفا سے داغؔ تو انجان ہے ابھی