نکہت و نور کا سماں ہوگا

dagh Niyazi (b. 1954)

نکہت و نور کا سماں ہوگا

اس کا چرچا جہاں جہاں ہوگا

وہ جہاں بھی ہو آسماں ہوگا

یہ نہ پوچھو کہاں کہاں ہوگا

بے ضمیری کا راز اگر کھولوں

اس کا چہرہ دھواں دھواں ہوگا

جان و دل سے میں چاہتا ہوں جسے

مجھ سے کیا وہ بھی بد گماں ہو گا

موسم نفرت و تعصب ہے

اب تو گلشن یہ بے نشاں ہوگا

کیا ابھی اور زخم کھانے ہیں

کیا ابھی اور امتحاں ہوگا

ڈھا رہا ہے جو داغؔ ظلم و ستم

ایک دن وہ بھی مہرباں ہوگا