وہی ہے مے وہی شیشہ وہی ہے پیمانہ

Naeema Jafri Pasha (b. 1954)

وہی ہے مے وہی شیشہ وہی ہے پیمانہ

پہ مے کشی کے جو آداب تھے وہ بدلے گئے

وہی ہے نیند وہی رات کی گرانی ہے

ہماری آنکھوں میں جو خواب تھے وہ بدلے گئے

سوالوں اور جوابوں کا سلسلہ ہے وہی

جو حق دلاتے وہ سارے جواب بدلے گئے

رفاقتیں تو بہت عام ہو گئیں اے دوست

دکھوں میں ساتھ جو احباب تھے وہ بدلے گئے

وہی ہے باغ وہی گل ہے وہی نغمہ ہے

سکون دل کے جو اسباب تھے وہ بدلے گئے

عبادتیں ہیں وہی اور وہی دعائیں ہیں

مگر دعا میں جو القاب تھے وہ بدلے گئے