جب تلک بے خودی نہیں ہوتی

dagh Niyazi (b. 1954)

جب تلک بے خودی نہیں ہوتی

عشق میں چاشنی نہیں ہوتی

کوششیں میں نے کیں بہت لیکن

حادثوں میں کمی نہیں ہوتی

جب سے چھوڑا ہے اس نے ساتھ مرا

دل کو راحت کبھی نہیں ہوتی

آپ چاہیں تو روٹھ سکتے ہیں

ہم سے تو بے رخی نہیں ہوتی

ہم نے جاں تک نثار کر ڈالی

ان کو اب بھی خوشی نہیں ہوتی

جب نہ ہوں حسن یار کی باتیں

شاعری شاعری نہیں ہوتی

پہلے ہوتی تھیں بیٹھ کر باتیں

اب ملاقات بھی نہیں ہوتی

ان کے ملنے سے داغؔ دل کو مرے

اب تو کوئی خوشی نہیں ہوتی