بہار نام ہے موسم کے رخ بدلنے کا

dagh Niyazi (b. 1954)

بہار نام ہے موسم کے رخ بدلنے کا

لو وقت آ گیا باغوں میں آم پھلنے کا

میں ہار مان چکا ہوں خوشامدیں کر کے

مگر وہ نام ہی لیتا نہیں پگھلنے کا

وہ ڈگمگا کے بھی ثابت قدم ہی رہتا ہے

ہمیں بھی اس سے ہنر سیکھنا ہے چلنے کا

عجب نہیں ہے کہ رسوائیاں ہی ہاتھ آئیں

سنبھل بھی جا کہ ابھی وقت ہے سنبھلنے کا

ہتھیلیوں پہ سجائے ہیں جان پروانے

اب انتظار ہے بس ان کو شمع جلنے کا

ہر ایک موڑ پہ پہرے بٹھا دئیے گئے داغؔ

کوئی بھی راستہ باقی نہیں نکلنے کا