Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوںمیں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوںAda Jafri (1924–2015)
  2. نہ بام و دشت نہ دریا نہ کوہسار ملےجنوں کی راہ تھی حالات سازگار ملےAda Jafri (1924–2015)
  3. وہ لمحہ کہ خاموشیٔ شب نغمہ سرا تھیکانوں پہ گراں دل کے دھڑکنے کی صدا تھیAda Jafri (1924–2015)
  4. وہی نا صبورئ آرزو وہی نقش پا وہی جادہ ہےکوئی سنگ رہ کو خبر کرو اسی آستاں کا ارادہ ہےAda Jafri (1924–2015)
  5. ویسے ہی خیال آ گیا ہےیا دل میں ملال آ گیا ہےAda Jafri (1924–2015)
  6. ہر اک دریچہ کرن کرن ہے جہاں سے گزرے جدھر گئے ہیںہم اک دیا آرزو کا لے کر بطرز شمس و قمر گئے ہیںAda Jafri (1924–2015)
  7. ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھییادوں کے بھنور میں چل رہی تھیAda Jafri (1924–2015)
  8. ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئےAda Jafri (1924–2015)
  9. یہ حکم ہے تری راہوں میں دوسرا نہ ملےشمیم جاں تجھے پیراہن صبا نہ ملےAda Jafri (1924–2015)
  10. یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیںیہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیںAda Jafri (1924–2015)
  11. بے اثر آرزو بے اثر ہے دعابا اثر ہے فقط ایک اس کی رضاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  12. جب اسے گردش ایام نے مارا ہوگااے مصیبت میں کسے اس نے پکارا ہوگاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  13. چھیڑتی ہے وہ نظر اب مرے دل کو ایسےکسی جراح کی پھوڑے یہ جراحت جیسےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  14. حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہےزمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  15. خود عرش بریں کو بھی جھکتے ہوئے پایا ہےسر جب بھی کبھی ہم نے سجدے میں جھکایا ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  16. دل سنبھلتے سنبھلتے سنبھل جائے گاغم مسرت کے سانچے میں ڈھل جائے گاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  17. دیر و کعبہ کی عظمت مسلم مگرمے کدہ بھی خدا ہی کے گھر سا لگےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  18. زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئیموت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئیOm Prakash Laghar (b. 1924)
  19. ستائش سے ہوتے نہیں شادماںملامت سے ہم تلملاتے نہیںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  20. کسی منزل پہ بھی ظلم و ستم سے ڈر نہیں سکتاکہ میں سجدہ کبھی باطل کے آگے کر نہیں سکتاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  21. کمال ذوق سجدہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگاوہیں وہ نقش پا ابھرا جہاں رکھ دی جبیں میں نےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  22. کہیں ساون میں بادل جھوم کر آیا نہیں اب تککسی نے گیت بھی ملہار کا گایا نہیں اب تکOm Prakash Laghar (b. 1924)
  23. مصیبت میں کسی کو مبتلا کوئی نہیں کرتابرے اعمال سے یہ اپنے سر خود لائی جاتی ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  24. مقدر کی کیوں ہم شکایت کریںجو مل جائے اس پر قناعت کریںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  25. نہ کر پائے دشمن بھی جو دشمنی میںکیا ہے رفیقوں نے وہ دوستی میںOm Prakash Laghar (b. 1924)
  26. یہ دنیا ظاہراً شہ کاری سی معلوم ہوتی ہےبہ باطن یہ ہمیں بے کار سی معلوم ہوتی ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  27. یہ ہر اک شخص کے اپنے تصور اور گماں تک ہےکسے معلوم ہے ورنہ حد عرفاں کہاں تک ہےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  28. آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاستھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاسBaldev Raaj (b. 1924)
  29. اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہےایک سیل مدہوشی اک ہجوم مستی ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  30. بدلا ہوا ہے رنگ گلستاں مرے لیےخوں رو رہی ہے چشم بہاراں مرے لیےBaldev Raaj (b. 1924)
  31. بہت پچھتاؤ گے تم درد مندوں سے خفا ہو کرکہ گل مرجھا کے رہ جاتا ہے خاروں سے جدا ہو کرBaldev Raaj (b. 1924)
  32. حیات الفت کی چاندنی میں مسرتوں کی کمی نہیں ہےمگر مقدر کو کیا کروں میں نظر وہ پہلی جو تھی نہیں ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  33. خزاں کا کوئی وجود ہے نہ چمن میں رنگ بہار ہےجسے جانتا ہے تو کارواں وہ تری نظر کا غبار ہےBaldev Raaj (b. 1924)
  34. خود کو خودی کا آئنہ دکھلا رہا ہوں میںاپنا حریف آپ بنا جا رہا ہوں میںBaldev Raaj (b. 1924)
  35. زندگی ہے عشق میری روح خودداری مریوائے مجبوری مری صد حیف مختاری مریBaldev Raaj (b. 1924)
  36. فکر و خیال میں تمہیں لانے سے فائدہخود اپنے گھر میں آگ لگانے سے فائدہBaldev Raaj (b. 1924)
  37. کوئی پردہ میان عشق حائل ہو نہیں سکتایہ حد ہے تو بھی اب مد مقابل ہو نہیں سکتاBaldev Raaj (b. 1924)
  38. گردش میں ہے زمین بھی کیا آسماں کے ساتھدنیا بدل گئی نگہ مہرباں کے ساتھBaldev Raaj (b. 1924)
  39. مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیںنہیں نہیں مجھے اب تیرا انتظار نہیںBaldev Raaj (b. 1924)
  40. میرے ارمانوں کو پامال زیاں رہنے بھی دےشوق منزل کو شریک کارواں رہنے بھی دےBaldev Raaj (b. 1924)
  41. میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیریہ زہر پی رہا ہوں گوارا کئے بغیرBaldev Raaj (b. 1924)
  42. ہر اک ذرے سے ہے تابانیٔ شمس و قمر پیداہر اک آئینے سے ہے صورت آئینہ گر پیداBaldev Raaj (b. 1924)
  43. تم ہو کہ مدتوں میں بھی میرے نہ ہو سکےمیں ہوں کہ ایک بات میں دیوانہ ہو گیاBaldev Raaj (b. 1924)
  44. اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گیعکس رہ جائیں گے تصویریں ہٹا دی جائیں گیGauhar Usmani (1924–2004)
  45. بجز خیال غم محبت کوئی مرا ہم سفر نہیں ہےمیں اب وہاں سے گزر رہا ہوں جہاں کسی کا گزر نہیں ہےGauhar Usmani (1924–2004)
  46. ترا حسن ہے وہ صہبا کہ کوئی مثال کیا دےکبھی تشنگی بجھا دے کبھی تشنگی بڑھا دےGauhar Usmani (1924–2004)
  47. تیری تصویر کو دھندلا نہیں ہونے دیں گےزندگی ہم تجھے رسوا نہیں ہونے دیں گےGauhar Usmani (1924–2004)
  48. حقیقتوں سے کبھی انحراف مت کیجےقصور جس کا ہو اس کو معاف مت کیجےGauhar Usmani (1924–2004)
  49. خواب تیرے ہیں یہ خوابوں کا نگر تیرا ہےذکر انفاس میں ہر شام و سحر تیرا ہےGauhar Usmani (1924–2004)
  50. دل میں رہنا کبھی خوابوں کے نگر میں رہناتم جہاں رہنا محبت کے سفر میں رہناGauhar Usmani (1924–2004)