چھیڑتی ہے وہ نظر اب مرے دل کو ایسے

Om Prakash Laghar (b. 1924)

چھیڑتی ہے وہ نظر اب مرے دل کو ایسے

کسی جراح کی پھوڑے یہ جراحت جیسے

دل میں رہتی ہے تری یاد کی خوشبو ایسے

کسی صحرا میں کوئی پھول کھلا ہو جیسے

ہر پرستار چمن سوچ رہا ہے دل میں

وقت سے پہلے خزاں آئی چمن میں کیسے

تو کہ بگڑی ہوئی تقدیر بنا سکتا ہے

میں کہ تقدیر کے ہاتھوں میں کھلونا جیسے

اس طرح ٹپکے مری آنکھ سے شعلے لاغرؔ

میرے سینے میں کہیں آگ لگی ہو جیسے