Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. یاد آئی وہ زلف پریشاںکٹ جائے گی اب شب ہجراںVafa Malikpuri (1923–2003)
  2. ملتی ہے غم سے روح کو اک لذت حیاتجو غم نصیب ہے وہ بڑا خوش نصیب ہےVafa Malikpuri (1923–2003)
  3. اب معتقد‌ گردش دوراں نہ رہے ہمقابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہمLalan Chaudhary (b. 1923)
  4. اس بت سے دل لگا کے بہت سوچتے رہےصبر و سکوں لٹا کے بہت سوچتے رہےLalan Chaudhary (b. 1923)
  5. اس بت سے مل کر اس دل ناداں کو کیا ہواکیوں آہ و زاری ہے لب خنداں کو کیا ہواLalan Chaudhary (b. 1923)
  6. اس غم کی دھوپ میں مجھے پروائیاں نہ دوجلنے دو اپنی زلف کی پرچھائیاں نہ دوLalan Chaudhary (b. 1923)
  7. اسیران عشق بتاں اور بھی ہیںنہیں میں ہی محو فغاں اور بھی ہیںLalan Chaudhary (b. 1923)
  8. خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہےانہیں مل کر انہیں کی ہو گئی معلوم ہوتی ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
  9. صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئےاس شوخ کی آنکھوں کے پیمانے کو کیا کہئےLalan Chaudhary (b. 1923)
  10. گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہےاس شوخ کے چلنے کی ادا اور ہی کچھ ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
  11. نصیب اپنا ذرا آزما کے دیکھیں گےچراغ شوق ہوا میں جلا کے دیکھیں گےLalan Chaudhary (b. 1923)
  12. بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھیزندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
  13. خلش و سوز دل فگار ہی دیدل میں شمشیر آب دار ہی دیHabib Tanvir (1923–2009)
  14. میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھیدیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
  15. تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہےمیں بار بار اسی راستے گزرا ہوںHabib Tanvir (1923–2009)
  16. میری بچی نے مجھ سے کل پوچھابابا یہ آسماں ہے نیلا کیوںHabib Tanvir (1923–2009)
  17. میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہےدل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤںHabib Tanvir (1923–2009)
  18. آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کوAda Jafri (1924–2015)
  19. آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھااچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
  20. آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہےاحوال جی کا زلف شکن در شکن سا ہےAda Jafri (1924–2015)
  21. اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتاہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتاAda Jafri (1924–2015)
  22. اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جاناAda Jafri (1924–2015)
  23. ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھیاس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھیAda Jafri (1924–2015)
  24. بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ سازبیچارگیٔ کرب و الم بھی بہانہ سازAda Jafri (1924–2015)
  25. توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہےAda Jafri (1924–2015)
  26. جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھاجینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
  27. جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہاAda Jafri (1924–2015)
  28. چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گےلوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گےAda Jafri (1924–2015)
  29. حال کھلتا نہیں جبینوں سےرنج اٹھائے ہیں جن قرینوں سےAda Jafri (1924–2015)
  30. حس نہیں تڑپ نہیں باب عطا بھی کیوں کھلےہم ہیں گرفتہ دل ابھی ہم سے صبا بھی کیوں کھلےAda Jafri (1924–2015)
  31. خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئیابتدا رنج کی کہاں سے ہوئیAda Jafri (1924–2015)
  32. خلش تیر بے پناہ گئیلیجئے ان سے رسم و راہ گئیAda Jafri (1924–2015)
  33. خود حجابوں سا خود جمال سا تھادل کا عالم بھی بے مثال سا تھاAda Jafri (1924–2015)
  34. دل اپنا جلایا ہے کسی نے بھی خوشی سےبن جاتی ہے جی پر تو گزر جاتے ہیں جی سےAda Jafri (1924–2015)
  35. دیپ تھا یا تارا کیا جانےدل میں کیوں ڈوبا کیا جانےAda Jafri (1924–2015)
  36. ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکےچھلکے چھلکے ساغر چھلکےAda Jafri (1924–2015)
  37. روز و شب کی کوئی صورت تو بنا کر رکھوںکسی لہجے کسی آہٹ کو سجا کر رکھوںAda Jafri (1924–2015)
  38. زباں کو حکم نگاہ کرم کو پہچانےنگہ کا جرم غبار الم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)
  39. شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھیکیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھیAda Jafri (1924–2015)
  40. عالم ہی اور تھا جو شناسائیوں میں تھاجو دیپ تھا نگاہ کی پرچھائیوں میں تھاAda Jafri (1924–2015)
  41. کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیاگھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیاAda Jafri (1924–2015)
  42. کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتےکہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتےAda Jafri (1924–2015)
  43. کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہاAda Jafri (1924–2015)
  44. کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیںاک رسم وفا تھی سو وفادار بہت ہیںAda Jafri (1924–2015)
  45. کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوںکہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوںAda Jafri (1924–2015)
  46. گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاںAda Jafri (1924–2015)
  47. گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئیکھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئیAda Jafri (1924–2015)
  48. گھر کا رستہ بھی ملا تھا شایدراہ میں سنگ وفا تھا شایدAda Jafri (1924–2015)
  49. مجھے رنگ خواب سے زندگی کا یقیں ملاکبھی دل دکھا تو کچھ اور بھی وہ قریں ملاAda Jafri (1924–2015)
  50. مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانےجو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)