Poetry
Poet
Meter
- یاد آئی وہ زلف پریشاںکٹ جائے گی اب شب ہجراںVafa Malikpuri (1923–2003)
- ملتی ہے غم سے روح کو اک لذت حیاتجو غم نصیب ہے وہ بڑا خوش نصیب ہےVafa Malikpuri (1923–2003)
- اب معتقد گردش دوراں نہ رہے ہمقابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہمLalan Chaudhary (b. 1923)
- اس بت سے دل لگا کے بہت سوچتے رہےصبر و سکوں لٹا کے بہت سوچتے رہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- اس بت سے مل کر اس دل ناداں کو کیا ہواکیوں آہ و زاری ہے لب خنداں کو کیا ہواLalan Chaudhary (b. 1923)
- اس غم کی دھوپ میں مجھے پروائیاں نہ دوجلنے دو اپنی زلف کی پرچھائیاں نہ دوLalan Chaudhary (b. 1923)
- اسیران عشق بتاں اور بھی ہیںنہیں میں ہی محو فغاں اور بھی ہیںLalan Chaudhary (b. 1923)
- خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہےانہیں مل کر انہیں کی ہو گئی معلوم ہوتی ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئےاس شوخ کی آنکھوں کے پیمانے کو کیا کہئےLalan Chaudhary (b. 1923)
- گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہےاس شوخ کے چلنے کی ادا اور ہی کچھ ہےLalan Chaudhary (b. 1923)
- نصیب اپنا ذرا آزما کے دیکھیں گےچراغ شوق ہوا میں جلا کے دیکھیں گےLalan Chaudhary (b. 1923)
- بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھیزندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
- خلش و سوز دل فگار ہی دیدل میں شمشیر آب دار ہی دیHabib Tanvir (1923–2009)
- میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھیدیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
- تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہےمیں بار بار اسی راستے گزرا ہوںHabib Tanvir (1923–2009)
- میری بچی نے مجھ سے کل پوچھابابا یہ آسماں ہے نیلا کیوںHabib Tanvir (1923–2009)
- میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہےدل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤںHabib Tanvir (1923–2009)
- آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کوAda Jafri (1924–2015)
- آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھااچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
- آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہےاحوال جی کا زلف شکن در شکن سا ہےAda Jafri (1924–2015)
- اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتاہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتاAda Jafri (1924–2015)
- اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جاناAda Jafri (1924–2015)
- ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھیاس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھیAda Jafri (1924–2015)
- بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ سازبیچارگیٔ کرب و الم بھی بہانہ سازAda Jafri (1924–2015)
- توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہےAda Jafri (1924–2015)
- جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھاجینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھاAda Jafri (1924–2015)
- جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہایہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہاAda Jafri (1924–2015)
- چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گےلوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گےAda Jafri (1924–2015)
- حال کھلتا نہیں جبینوں سےرنج اٹھائے ہیں جن قرینوں سےAda Jafri (1924–2015)
- حس نہیں تڑپ نہیں باب عطا بھی کیوں کھلےہم ہیں گرفتہ دل ابھی ہم سے صبا بھی کیوں کھلےAda Jafri (1924–2015)
- خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئیابتدا رنج کی کہاں سے ہوئیAda Jafri (1924–2015)
- خلش تیر بے پناہ گئیلیجئے ان سے رسم و راہ گئیAda Jafri (1924–2015)
- خود حجابوں سا خود جمال سا تھادل کا عالم بھی بے مثال سا تھاAda Jafri (1924–2015)
- دل اپنا جلایا ہے کسی نے بھی خوشی سےبن جاتی ہے جی پر تو گزر جاتے ہیں جی سےAda Jafri (1924–2015)
- دیپ تھا یا تارا کیا جانےدل میں کیوں ڈوبا کیا جانےAda Jafri (1924–2015)
- ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکےچھلکے چھلکے ساغر چھلکےAda Jafri (1924–2015)
- روز و شب کی کوئی صورت تو بنا کر رکھوںکسی لہجے کسی آہٹ کو سجا کر رکھوںAda Jafri (1924–2015)
- زباں کو حکم نگاہ کرم کو پہچانےنگہ کا جرم غبار الم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)
- شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھیکیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھیAda Jafri (1924–2015)
- عالم ہی اور تھا جو شناسائیوں میں تھاجو دیپ تھا نگاہ کی پرچھائیوں میں تھاAda Jafri (1924–2015)
- کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیاگھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیاAda Jafri (1924–2015)
- کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتےکہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتےAda Jafri (1924–2015)
- کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہاAda Jafri (1924–2015)
- کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیںاک رسم وفا تھی سو وفادار بہت ہیںAda Jafri (1924–2015)
- کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوںکہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوںAda Jafri (1924–2015)
- گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاںAda Jafri (1924–2015)
- گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئیکھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئیAda Jafri (1924–2015)
- گھر کا رستہ بھی ملا تھا شایدراہ میں سنگ وفا تھا شایدAda Jafri (1924–2015)
- مجھے رنگ خواب سے زندگی کا یقیں ملاکبھی دل دکھا تو کچھ اور بھی وہ قریں ملاAda Jafri (1924–2015)
- مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانےجو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانےAda Jafri (1924–2015)