کہیں ساون میں بادل جھوم کر آیا نہیں اب تک
Om Prakash Laghar (b. 1924)کہیں ساون میں بادل جھوم کر آیا نہیں اب تک
کسی نے گیت بھی ملہار کا گایا نہیں اب تک
اسے احساس آزادی اگر ہو بھی تو کیوں کر ہو
رہا ہو کر جو قیدی قید سے آیا نہیں اب تک
اسیری پر کسی بے بس کی ہے صیاد ابھی نازاں
خدا کا خوف اس کے دل میں کیوں آیا نہیں اب تک
زمانہ ساز ہونے کی ضرورت تھی زمانے میں
زمانہ ساز ہونا ہی ہمیں آیا نہیں اب تک
شب فرقت ہمارا ہچکیوں سے دم نکل جاتا
خدا کا شکر تم نے یاد فرمایا نہیں اب تک
یقیناً مرشد کامل کی شفقت کا نتیجہ ہے
ہوس کے جال میں لاغرؔ کبھی آیا نہیں اب تک