خود عرش بریں کو بھی جھکتے ہوئے پایا ہے
Om Prakash Laghar (b. 1924)خود عرش بریں کو بھی جھکتے ہوئے پایا ہے
سر جب بھی کبھی ہم نے سجدے میں جھکایا ہے
دنیا کے ارادوں کو یہ بھانپ گیا ہوگا
پژمردہ سا جو چہرہ سورج نے بنایا ہے
مے خانۂ الفت کے مے خوار کو دنیا نے
سولی پہ چڑھایا ہے اور زہر پلایا ہے
نادار کا مولا ہے بہتوں سے سنا ہے یہ
پھر کونسی طاقت نے مفلس کو ستایا ہے
تقدیر کے ہاتھوں سے تدبیر پٹی لیکن
تقدیر کا سر اکثر ہمت نے جھکایا ہے
اس راز کو اے لاغرؔ کوئی بھی نہیں سمجھا
کیا سوچ کے خالق نے دنیا کو بنایا ہے