Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہےآئنہ ٹوٹ کے پتھر کو صدا دیتا ہےGauhar Usmani (1924–2004)
  2. غم دیتے ہیں تو اضطراب نہ دےزندگی دے مگر عذاب نہ دےGauhar Usmani (1924–2004)
  3. کبھی شادماں کبھی پر الم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ کرم کے روپ میں اک ستم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوGauhar Usmani (1924–2004)
  4. کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکےکہو وہ شعر کہ دنیائے فکر و فن مہکےGauhar Usmani (1924–2004)
  5. مزاج مستقل دینا شعور معتبر دیناجھکا پائے نہ جس کو وقت کا طوفاں وہ سر دیناGauhar Usmani (1924–2004)
  6. یا رب دل و نظر پہ مسلط کبھی نہ ہووہ بے خودی کہ جس میں شعور خودی نہ ہوGauhar Usmani (1924–2004)
  7. اب تو جینے کی کوئی راہ نہیںاپنے ہی شہر میں پناہ نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  8. اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیںسب ہیں خدا یہاں پہ کوئی نا خدا نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  9. بے وفا وعدہ شکن اور ستم گر نکلامیں نے سمجھا تھا جسے پھول وہ پتھر نکلاUmar Quraishi (1924–2010)
  10. پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیاایک لمحے کا سکوں صدیوں کی الجھن دے گیاUmar Quraishi (1924–2010)
  11. پیکر لالہ و گل ہے اسے پتھر نہ کہووہ ہے محبوب مرا اس کو ستم گر نہ کہوUmar Quraishi (1924–2010)
  12. جذبۂ شوق کا اظہار کروں یا نہ کروںدل کو رسوا سر بازار کروں یا نہ کروںUmar Quraishi (1924–2010)
  13. چلائے تیر ہیں کتنے جواب دیتا جاہمارے زخموں کا کچھ تو حساب دیتا جاUmar Quraishi (1924–2010)
  14. داستاں عشق کی انجام تک آ پہنچی ہےبات اب حسرت ناکام تک آ پہنچی ہےUmar Quraishi (1924–2010)
  15. غم حیات ہے فکر معاش سے لوگوہمیں تو صدیوں سے اپنی تلاش ہے لوگوUmar Quraishi (1924–2010)
  16. فریب‌ وقت نہ کر خود سری کی بات نہ کرتو ایک لمحہ ہے مجھ سے صدی کی بات نہ کرUmar Quraishi (1924–2010)
  17. مانجھی تری کشتی کے طلب گار بہت ہیںکچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیںUmar Quraishi (1924–2010)
  18. وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سےباز آئے محبت کی ہم آشفتہ سری سےUmar Quraishi (1924–2010)
  19. یہ مرے جذب محبت کی پذیرائی ہےوہ بھی کہنے لگے دیوانہ ہے سودائی ہےUmar Quraishi (1924–2010)
  20. جگر کے خون سے تزئین بال و پر کر دیچمن اسیر نے یوں زندگی بسر کر دیRabia Barni (b. 1924)
  21. وہ ترا شہر ترے شہر کا ہر رنگ جدا یاد آیاآنکھ بند ہوتے ہی اک منظر تمثیل نما یاد آیاRabia Barni (b. 1924)
  22. ہے حسن کا اعجاز کہ اعجاز نظر کیاآنکھوں میں ہیں پوشیدہ ترے لعل و گہر کیاRabia Barni (b. 1924)
  23. اوروں سے الگ دنیا سے جدایکتائے زمانہ ہوں گویاRabia Barni (b. 1924)
  24. پھر رات کی لانبی پلکوں پرتخیل کے موتی ڈھلتے ہیںRabia Barni (b. 1924)
  25. تم اکثر کہتے رہتے ہوپھولوں کا کیا ہےRabia Barni (b. 1924)
  26. جسم پر اس کے اور جان پردین و ایمان پرRabia Barni (b. 1924)
  27. وہ لحن جو صدیوں صدیوں تکانسان کے دل کی دھڑکن تھاRabia Barni (b. 1924)
  28. زندگی بوجھ سہی بوجھ کا احساس نہ کرمنزلیں دور سہی اس کا تردد بیکارRabia Barni (b. 1924)
  29. زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہاتیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہاIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  30. مری آرزو کا حاصل مری زیست کا سہاراترا اک حسیں تبسم ترا جلوۂ خود آراIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  31. وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیاتہاں ہاں یہی ادا یہی انداز التفاتIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  32. میرے ان کاکل برہم کی حکایت مت پوچھآہ اس نالۂ پیہم کی حقیقت مت پوچھIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  33. دل آج بہت گھبراتا ہےدل آج بہت گھبراتا ہےIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  34. مجھے پسند ہے کیوں میری شام تنہائییہ مجھ سے کوئی نہ پوچھے کہ میں بتا نہ سکوںDanish Farazi (1924–1980)
  35. سن رہا ہوں دیر سے دھیمی سی دستک کی صداکون ہوگا اس اندھیری رات میںDanish Farazi (1924–1980)
  36. دل تنہا میں اب احساس محرومی نہیں شایدتری دوری بھی اب دل کے لئے دوری نہیں شایدHabeeb Hyderabadi (1924–1989)
  37. ہم اہل آرزو پہ عجب وقت آ پڑاہر ہر قدم پہ کھیل نیا کھیلنا پڑاHabeeb Hyderabadi (1924–1989)
  38. دودھیا رنگ کے قمقمےدودھیا روشنیQamar Hashmi (1924–1993)
  39. میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھاکہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میںQamar Hashmi (1924–1993)
  40. آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہےکچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  41. آج تو بے سبب اداس ہے جیعشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
  42. آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہووہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہوNasir Kazmi (1925–1972)
  43. اپنی دھن میں رہتا ہوںمیں بھی تیرے جیسا ہوںNasir Kazmi (1925–1972)
  44. اس دنیا میں اپنا کیا ہےکہنے کو سب کچھ اپنا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  45. اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہمدو قدم اور مرے ساتھ چلوNasir Kazmi (1925–1972)
  46. اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کویاد آئی تری انگشت حنائی مجھ کوNasir Kazmi (1925–1972)
  47. او میرے مصروف خدااپنی دنیا دیکھ ذراNasir Kazmi (1925–1972)
  48. پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئےپھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئےNasir Kazmi (1925–1972)
  49. ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہےدیا سا رات بھر جلتا رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  50. ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائیشب فراق ہے یا تیری جلوہ آرائیNasir Kazmi (1925–1972)