Poetry
Poet
Meter
- رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہےآئنہ ٹوٹ کے پتھر کو صدا دیتا ہےGauhar Usmani (1924–2004)
- غم دیتے ہیں تو اضطراب نہ دےزندگی دے مگر عذاب نہ دےGauhar Usmani (1924–2004)
- کبھی شادماں کبھی پر الم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ کرم کے روپ میں اک ستم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوGauhar Usmani (1924–2004)
- کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکےکہو وہ شعر کہ دنیائے فکر و فن مہکےGauhar Usmani (1924–2004)
- مزاج مستقل دینا شعور معتبر دیناجھکا پائے نہ جس کو وقت کا طوفاں وہ سر دیناGauhar Usmani (1924–2004)
- یا رب دل و نظر پہ مسلط کبھی نہ ہووہ بے خودی کہ جس میں شعور خودی نہ ہوGauhar Usmani (1924–2004)
- اب تو جینے کی کوئی راہ نہیںاپنے ہی شہر میں پناہ نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیںسب ہیں خدا یہاں پہ کوئی نا خدا نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- بے وفا وعدہ شکن اور ستم گر نکلامیں نے سمجھا تھا جسے پھول وہ پتھر نکلاUmar Quraishi (1924–2010)
- پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیاایک لمحے کا سکوں صدیوں کی الجھن دے گیاUmar Quraishi (1924–2010)
- پیکر لالہ و گل ہے اسے پتھر نہ کہووہ ہے محبوب مرا اس کو ستم گر نہ کہوUmar Quraishi (1924–2010)
- جذبۂ شوق کا اظہار کروں یا نہ کروںدل کو رسوا سر بازار کروں یا نہ کروںUmar Quraishi (1924–2010)
- چلائے تیر ہیں کتنے جواب دیتا جاہمارے زخموں کا کچھ تو حساب دیتا جاUmar Quraishi (1924–2010)
- داستاں عشق کی انجام تک آ پہنچی ہےبات اب حسرت ناکام تک آ پہنچی ہےUmar Quraishi (1924–2010)
- غم حیات ہے فکر معاش سے لوگوہمیں تو صدیوں سے اپنی تلاش ہے لوگوUmar Quraishi (1924–2010)
- فریب وقت نہ کر خود سری کی بات نہ کرتو ایک لمحہ ہے مجھ سے صدی کی بات نہ کرUmar Quraishi (1924–2010)
- مانجھی تری کشتی کے طلب گار بہت ہیںکچھ لوگ ہیں اس پار تو اس پار بہت ہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سےباز آئے محبت کی ہم آشفتہ سری سےUmar Quraishi (1924–2010)
- یہ مرے جذب محبت کی پذیرائی ہےوہ بھی کہنے لگے دیوانہ ہے سودائی ہےUmar Quraishi (1924–2010)
- جگر کے خون سے تزئین بال و پر کر دیچمن اسیر نے یوں زندگی بسر کر دیRabia Barni (b. 1924)
- وہ ترا شہر ترے شہر کا ہر رنگ جدا یاد آیاآنکھ بند ہوتے ہی اک منظر تمثیل نما یاد آیاRabia Barni (b. 1924)
- ہے حسن کا اعجاز کہ اعجاز نظر کیاآنکھوں میں ہیں پوشیدہ ترے لعل و گہر کیاRabia Barni (b. 1924)
- اوروں سے الگ دنیا سے جدایکتائے زمانہ ہوں گویاRabia Barni (b. 1924)
- پھر رات کی لانبی پلکوں پرتخیل کے موتی ڈھلتے ہیںRabia Barni (b. 1924)
- تم اکثر کہتے رہتے ہوپھولوں کا کیا ہےRabia Barni (b. 1924)
- جسم پر اس کے اور جان پردین و ایمان پرRabia Barni (b. 1924)
- وہ لحن جو صدیوں صدیوں تکانسان کے دل کی دھڑکن تھاRabia Barni (b. 1924)
- زندگی بوجھ سہی بوجھ کا احساس نہ کرمنزلیں دور سہی اس کا تردد بیکارRabia Barni (b. 1924)
- زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہاتیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہاIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- مری آرزو کا حاصل مری زیست کا سہاراترا اک حسیں تبسم ترا جلوۂ خود آراIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیاتہاں ہاں یہی ادا یہی انداز التفاتIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- میرے ان کاکل برہم کی حکایت مت پوچھآہ اس نالۂ پیہم کی حقیقت مت پوچھIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- دل آج بہت گھبراتا ہےدل آج بہت گھبراتا ہےIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
- مجھے پسند ہے کیوں میری شام تنہائییہ مجھ سے کوئی نہ پوچھے کہ میں بتا نہ سکوںDanish Farazi (1924–1980)
- سن رہا ہوں دیر سے دھیمی سی دستک کی صداکون ہوگا اس اندھیری رات میںDanish Farazi (1924–1980)
- دل تنہا میں اب احساس محرومی نہیں شایدتری دوری بھی اب دل کے لئے دوری نہیں شایدHabeeb Hyderabadi (1924–1989)
- ہم اہل آرزو پہ عجب وقت آ پڑاہر ہر قدم پہ کھیل نیا کھیلنا پڑاHabeeb Hyderabadi (1924–1989)
- دودھیا رنگ کے قمقمےدودھیا روشنیQamar Hashmi (1924–1993)
- میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھاکہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میںQamar Hashmi (1924–1993)
- آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہےکچھ تو بتا کیا بات ہوئی ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- آج تو بے سبب اداس ہے جیعشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
- آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہووہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہوNasir Kazmi (1925–1972)
- اپنی دھن میں رہتا ہوںمیں بھی تیرے جیسا ہوںNasir Kazmi (1925–1972)
- اس دنیا میں اپنا کیا ہےکہنے کو سب کچھ اپنا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں ہمدو قدم اور مرے ساتھ چلوNasir Kazmi (1925–1972)
- اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کویاد آئی تری انگشت حنائی مجھ کوNasir Kazmi (1925–1972)
- او میرے مصروف خدااپنی دنیا دیکھ ذراNasir Kazmi (1925–1972)
- پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئےپھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئےNasir Kazmi (1925–1972)
- ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہےدیا سا رات بھر جلتا رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
- ترے خیال سے لو دے اٹھی ہے تنہائیشب فراق ہے یا تیری جلوہ آرائیNasir Kazmi (1925–1972)