جب اسے گردش ایام نے مارا ہوگا
Om Prakash Laghar (b. 1924)جب اسے گردش ایام نے مارا ہوگا
اے مصیبت میں کسے اس نے پکارا ہوگا
عزم و ہمت ہی سے قسمت کو سنوارا جائے
ایک مولا ہے تو کس کس کا سہارا ہوگا
سوئے کشتی جو یہ طوفان بڑھا آتا ہے
عزم و ہمت کے لئے اس میں کنارا ہوگا
پھول تو پھول ہیں کانٹوں سے لپٹ جاتا ہوں
یہ سمجھ کر کہ مجھے تیرا نظارہ ہوگا
اب نہ ساحل کی طلب ہے نہ کناروں کی تلاش
ڈوب جائیں گے جہاں وہ ہی کنارا ہوگا
میں بھلا تیرا پتہ دیر و حرم سے پوچھوں
جذبۂ عشق کو یہ کیسے گوارا ہوگا
تم تو پژمردہ غم خار میں ہو اے لاغرؔ
پھول مرجھائے تو کیا حال تمہارا ہوگا