مقدر کی کیوں ہم شکایت کریں

Om Prakash Laghar (b. 1924)

مقدر کی کیوں ہم شکایت کریں

جو مل جائے اس پر قناعت کریں

خرد بے عمل بے یقیں کم نظر

جہاں میں جنوں کی حمایت کریں

مناسب ہے اصلاح اپنی ہمیں

نہ اوروں کو ہرگز ہدایت کریں

ہر اک سے محبت ہر اک پر کرم

نہ ہرگز کسی سے عداوت کریں

گلستاں کو بخشیں نئی زندگی

گل و نسترن کی حفاظت کریں

بتوں کا اگر فیض درکار ہے

تو سینے میں پیدا حرارت کریں

رکھیں بغض و کینہ سے دل پاک صاف

نہ دیر و حرم کی زیارت کریں

جوانو اٹھو نوجوانو اٹھو

ستم کے خلاف اب بغاوت کریں

بشر سے ہے لاغرؔ محبت اگر

نہ بے شک خدا کی عبادت کریں