ویسے ہی خیال آ گیا ہے

Ada Jafri (1924–2015)

ویسے ہی خیال آ گیا ہے

یا دل میں ملال آ گیا ہے

آنسو جو رکا وہ کشت جاں میں

بارش کی مثال آ گیا ہے

غم کو نہ زیاں کہو کہ دل میں

اک صاحب حال آ گیا ہے

جگنو ہی سہی فصیل شب میں

آئینہ خصال آ گیا ہے

آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں

یہ کس کا جمال آ گیا ہے

مدت ہوئی کچھ نہ دیکھنے کا

آنکھوں کو کمال آ گیا ہے

میں کتنے حصار توڑ آئی

جینا تھا محال آ گیا ہے