مصیبت میں کسی کو مبتلا کوئی نہیں کرتا
Om Prakash Laghar (b. 1924)مصیبت میں کسی کو مبتلا کوئی نہیں کرتا
برے اعمال سے یہ اپنے سر خود لائی جاتی ہے
بہاروں کی تمنا ہی نہیں اے باغباں یعنی
گلوں پر تازگی خون جگر سے لائی جاتی ہے
ضرورت ہے بصیرت آنکھ میں پیدا ہو رادھا سے
چھبی گھنشیام کی تو ہر جگہ ہی پائی جاتی ہے
یہ دستور کہن ہے دوستو رندوں کی محفل کا
دلوں کی بات مشکل سے زباں پر لائی جاتی ہے
اگرچہ ایک سی روداد ہے فرہاد و مجنوں کی
مگر یہ مختلف انداز سے دہرائی جاتی ہے
یہ دنیا ہم کو اب تک راس آئی ہے نہ آئے گی
یہ مانا دل کشی اس میں بھی کچھ کچھ پائی جاتی ہے
بشر کی عزت و عظمت زر و گوہر سے کیا ہوگی
یہ دولت وضع داری ہی میں لاغرؔ پائی جاتی ہے