Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھاتری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھاLubna Safdar
- بہت جلدی تھی تم کو راستے اپنے بدلنے کیابھی تو چاہتوں کو کتنا پائیدار ہونا تھاLubna Safdar
- نہ اتراؤ چمن والوں حسیں پھولوں کے جوبن پررہا کرتی ہے رنگینی فقط دو روز گلشن پرPaikan Chandpuri
- دکھاتے ہیں ادا کچھ بھی تو آفت آ ہی جاتی ہےسنبھل کر لاکھ چلتے ہیں قیامت آ ہی جاتی ہےRadhe Shiyam Rastogi Ahqar
- برا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتےخطا کیا کر نہیں سکتے ہیں لیکن ہم نہیں کرتےYaqoob Saqi
- محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتشتخیل شبنمی ہے گرچہ میری گفتگو آتشZafar Mehdi
- نہ دیکھوں گا حسینوں کو ارے توبہ نہ دیکھوں گاتقاضا لاکھ تو کر اے دل شیدا نہ دیکھوں گاعزیز الحسن غوری
- وہ مست ناز آتا ہے ذرا ہشیار ہو جانایہیں دیکھا گیا ہے بے پیے سرشار ہو جاناعزیز الحسن غوری
- کہو بلبل کو لے جاوے چمن سے آشیاں اپناپڑھے گر صد ہزار افسوں نہ ہوگا باغباں اپناآفتاب شاہ عالم ثانی
- تعلق مدتوں کا ترک اس سے ہو تو کیونکر ہوخدا کے واسطے ناصح نہ اتنا تو مرے سر ہوفروغ حیدرآبادی
- جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتازمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتاJalal Aarif
- فقط امید سے گلشن کی ویرانی نہیں جاتییہ جاتے جاتے جاتی ہے بہ آسانی نہیں جاتیParmod Lal Yakta
- یہ اپنا وصف دیرینہ کہ عیاری نہیں کرتےوطن سے ہم کسی قیمت پہ غداری نہیں کرتےRafeeq Anjum
- کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونالبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہوناانوری جہاں بیگم حجاب
- مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینالگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دیناانوری جہاں بیگم حجاب
- وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیںتو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیںانوری جہاں بیگم حجاب
- کسی کے بھول جانے سے محبت کم نہیں ہوتیمحبت غم تو دیتی ہے شریک غم نہیں ہوتیGham Bijnori
- فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتےکہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتےHabeeb Saifi
- کبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہےہمیں اپنے بزرگوں کی شرافت یاد آتی ہےHabeeb Saifi
- کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھاترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھاHabeeb Saifi
- کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگاہوا گر کچھ مرے حق میں صلہ تدبیر کا ہوگاHabeeb Saifi
- یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہکرے گا بے وفا بھی اب وفا آہستہ آہستہHabeeb Saifi
- چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئیہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئیMadhu Madhuman
- خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتامجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتامخمور دہلوی
- دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتاجہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتامخمور دہلوی
- کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتایہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتامخمور دہلوی
- یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتےترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتےمخمور دہلوی
- یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کےکہ اس کی پتلیوں سے آ رہا ہے نور چھن چھن کےرنجور عظیم آبادی
- جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلےتماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلےرنجور عظیم آبادی
- لپٹ کر سو رہا ہوں لذت درد محبت سےیہ عشرت بعد مردن خاک میں ملتی ہے قسمت سےS. Nooruddin Anwar Bhopali
- عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لواگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لوعاشق حسین بزم آفندی
- عجب حسرت سے تکتے ہیں نگر کے بند در مجھ کوچلا جاتا ہوں لے جاتی ہے تنہائی جدھر مجھ کوDawood Kashmiri
- بھلانا ہے بہت مشکل مگر پھر بھی بھلانا ہےتری یادوں کو دل سے اب تو ہر صورت مٹانا ہےGhazal Ansari
- بہت تھا ناز جن پر ہم انہیں رشتوں پہ ہنستے ہیںہمیں کیا رسم دنیا ہے کہ سب اپنوں پہ ہنستے ہیںKaleem Haider Sharar
- کئی لوگوں نے پھلتے پھولتے پیڑوں سے جانا ہےمگر میں نے تجھے سبزے کی عریانی سے پہچاناKaleem Haider Sharar
- قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہےجہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہےMadhuvan Rishi Raj
- ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیںمگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیںآسی الدنی
- مجھے اپنے ہی اندر چور سا محسوس ہوتا ہےتجھے دیکھوں تو کوئی دیکھتا محسوس ہوتا ہےFaisal Saghar
- سنا ہے زخمی تیغ نگہ کا دم نکلتا ہےترا ارمان لے اے قاتل عالم نکلتا ہےحیرت الہ آبادی
- کبھی ہم ان کی سنتے ہیں کبھی اپنی سناتے ہیںاسی دور محبت میں یہ دن یوں بیت جاتے ہیںMadhukar Jha Khuddar
- نہ ساقی ہے نہ مینا ہے نہ بر میں یار جانی ہےحقیقت میں نہیں جیتے بہ صورت زندگانی ہےمیر شیر علی افسوس
- اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیںبگاڑیں گے ہزاروں گھر کہ وہ بن ٹھن کے بیٹھے ہیںRafi Ahmad Aali
- اٹھا لے جائیں گلشن سے کدھر ہم آشیاں اپناہوا ہے عین فصل گل میں دشمن باغباں اپناوحیدالدین احمد وحید
- بظاہر ٹھیک لگتے ہو مگر یہ آنکھ کیوں نم ہےخوشی پر رو دئے ہو کیوں تمہیں کس بات کا غم ہےOmaima Yusuf
- کوئی ہوتا ہے، ہر اک آشنا اچھا نہیں ہوتاضرورت سے زیادہ رابطہ اچھا نہیں ہوتاLateef Sahil
- چلی اب گل کے ہاتھوں سے لٹا کر کارواں اپنانہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنامظہر جان جاناں
- یہ جھوٹوں کا زمانہ ہے کوئی سچ بات مت کہناچنانچہ رات بے شک ہو مگر تم رات مت کہناQamar Naqvi
- تصور میں ہمارے بھی کسی کا حسن پلتا ہےتغزل کا چراغ اس واسطے آنکھوں میں جلتا ہےUddhav Mahajan Bismil
- ملن کی رات وہ پہلی نہیں ممکن بھلا پانامرا تیرے قریب آنا ترا خود میں سمٹ جاناVijay Arun
- اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتاابھی کچھ روز تک کعبہ کلیسا ہو نہیں سکتاEhqar Jhanswi