جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتا
Jalal Aarifجہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتا
زمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتا
میں تجھ کو دیکھ کر مستی میں ایسا چور ہو جاتا
کہ دنیا کیا ہے اپنے آپ سے بھی دور ہو جاتا
غنیمت ہے اچٹتی ہی نظر ان کی پڑی مجھ پر
میں کیا کرتا نظر کا وار اگر بھرپور ہو جاتا
ذرا سی جرأت کردار بھی ہوتی اگر ہم میں
زمانہ رخ بدلنے کے لئے مجبور ہو جاتا
فقط شہرت نہیں ہے مقصد شعر و سخن عارفؔ
ذرا کوشش جو کرتا میں بہت مشہور ہو جاتا