تصور میں ہمارے بھی کسی کا حسن پلتا ہے

Uddhav Mahajan Bismil

تصور میں ہمارے بھی کسی کا حسن پلتا ہے

تغزل کا چراغ اس واسطے آنکھوں میں جلتا ہے

ہمارے دل میں اٹھتی ہیں ہوائیں درد کی جس دم

ہمارے دل میں تخلیقات کا طوفاں مچلتا ہے

زمانہ ہے نہ جانے کب یہ رخ اپنا بدل ڈالے

ہوا پر اختیار آخر کہاں انساں کا چلتا ہے

فصیلوں میں مقید ہے ہماری زندگی لیکن

پرندے کی طرح پرواز کو یہ دل مچلتا ہے

میں ٹکراتا ہوں طوفاں سے اسی ایمان پر بسملؔ

مرے ہر عزم راسخ سے ہوا کا رخ بدلتا ہے