مجھے اپنے ہی اندر چور سا محسوس ہوتا ہے

Faisal Saghar

مجھے اپنے ہی اندر چور سا محسوس ہوتا ہے

تجھے دیکھوں تو کوئی دیکھتا محسوس ہوتا ہے

تحیر کا یہ عالم ہے کہ جس کو دیکھ کر گزریں

پلٹ کے دیکھیے تو دوسرا محسوس ہوتا ہے

میں اندر سے بہت خالی ہوں لیکن تم بھی سچے ہو

کہ میرا جسم باہر سے بھرا محسوس ہوتا ہے

مرے اندر کسی شے نے بہت ہلچل مچائی ہے

جہاں بھی بیٹھتا ہوں زلزلہ محسوس ہوتا ہے

مگر اک عمر لگتی ہے یہاں تک آنے میں صاحب

جہاں نقصان میں بھی فائدہ محسوس ہوتا ہے

نہ جانے عشق کی اب کون سی منزل پہ فائز ہوں

جہاں میں ہوں وہاں فیصلؔ خدا محسوس ہوتا ہے