اذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا
Ehqar Jhanswiاذاں سے نعرۂ ناقوس پیدا ہو نہیں سکتا
ابھی کچھ روز تک کعبہ کلیسا ہو نہیں سکتا
زباں سے جوش قومی دل میں پیدا ہو نہیں سکتا
ابلنے سے کنواں وسعت میں دریا ہو نہیں سکتا
بہت پنہاں رہی دل میں خلش خار تعصب کی
مگر اب امتحاں کے وقت پردہ ہو نہیں سکتا
گراں ہے جنس اور نیت خریداروں کی ابتر ہے
اب اس بازار میں الفت کا سودا ہو نہیں سکتا