بظاہر ٹھیک لگتے ہو مگر یہ آنکھ کیوں نم ہے
Omaima Yusufبظاہر ٹھیک لگتے ہو مگر یہ آنکھ کیوں نم ہے
خوشی پر رو دئے ہو کیوں تمہیں کس بات کا غم ہے
کبھی ہنستی ہوئی نم آنکھ دیکھو گے تو سمجھو گے
ہیں غم کی صورتیں کتنی خوشی کے بعد بھی غم ہے
اذیت جھیلنی ہوگی یہاں بس آخری دم تک
جہاں میں جس قدر جتنا جسے ہے عارضی غم ہے
دیا مسلک کا جلتا ہے دل مسلم کی راہوں میں
جہاں روشن تو ہے لیکن ابھی بھی روشنی کم ہے
یہاں وعدے نبھانے کا کہیں گے آخری دم تک
کسے معلوم کب کس کا یہاں پر آخری دم ہے
ہنر سے دکھ کریدیں تب کہیں اشعار بنتے ہیں
رسائی کم سہی لیکن تمہاری داد بھی کم ہے