زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا

Lubna Safdar

زمین چشم نم میں ہم کو تیرا خواب بونا تھا

تری ہر یاد کا موتی تو پلکوں میں پرونا تھا

ملن کے موسموں میں جانے کیوں میں بھول بیٹھی تھی

تجھے بھی شہر کی اس بھیڑ میں اے دوست کھونا تھا

فقط اپنے خیالوں سے نہ باندھو یوں مرے دلبر

کبھی دیتے رہائی مجھ کو بھی کچھ دیر سونا تھا

گرا ہے تو کئی ٹکڑوں میں وہ بکھرا پڑا ہوگا

تمہارے نم سے ہاتھوں میں جو شیشے کا کھلونا تھا

نہ جانے وقت نے کیوں فاصلے یہ دے دئے ورنہ

تمہی تو میرے جیسے تھے تمہیں تو میرا ہونا تھا