لپٹ کر سو رہا ہوں لذت درد محبت سے

S. Nooruddin Anwar Bhopali

لپٹ کر سو رہا ہوں لذت درد محبت سے

یہ عشرت بعد مردن خاک میں ملتی ہے قسمت سے

سراپا شعر و نغمہ بن گیا کس کی عنایت سے

مرا دل اب عبارت ہے محبت ہی محبت سے

وہ فردوس بریں دراصل دوزخ سے بھی بد تر ہے

جو حاصل کی گئی ہو غیر کے لطف و عنایت سے

اگر فرقت ہی فرقت ہو تو پھر فرقت نہیں رہتی

میں تیرے وصل کا بھی لطف اٹھا لیتا ہوں فرقت سے

تمنا ہے کہ رہنے دے یہی احساس وہ مجھ میں

کہ اک میں ہی فقط محروم ہوں اس کی عنایت سے

یہ دنیا سے الگ رہنا بھی کچھ اچھا نہیں زاہدؔ

بغاوت ہے یہ منشائے الٰہی کی اطاعت سے

شرارت کچھ انہیں اس کی سمت سے ہوتی نہیں تنہا

مجھے بھی فطرتاً کچھ انسیت سی ہے شرارت سے

مجھے تو بت کدہ ہی میں خدا بھی مل گیا زاہد

مسلماں ہو گیا ہوں میں اسی کفر محبت میں

یہ انورؔ کون سی دنیا میں کھویا ہے کہ خود اس کو

سنا ہے آپ اپنی جستجو ہے ایک مدت سے