نہ اتراؤ چمن والوں حسیں پھولوں کے جوبن پر
Paikan Chandpuriنہ اتراؤ چمن والوں حسیں پھولوں کے جوبن پر
رہا کرتی ہے رنگینی فقط دو روز گلشن پر
کہاں ممکن کہ رہ جاتا کوئی تنکا گلستاں میں
ہزاروں بجلیاں گرتی رہیں میرے نشیمن پر
جو آنکھوں میں رہے وہ بے شبہ ہے بے بہا گوہر
وہ آنسو کیا ہے جو آ جائے چشم تر سے دامن پر
ستا لے جتنا جی چاہے جلا لے جتنا جی چاہے
تجھے رونا پڑے گا آ کے اک دن میرے مدفن پر
کمی تو کچھ نہ تھی پیکاںؔ مرے شوق شہادت میں
نہ جانے تیغ قاتل کیوں چلی رک رک کے گردن پر