Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- زندگی اس کی امانت تھی وگرنہ مظہرؔہم اسے اپنے تصرف میں بھی لا سکتے تھےEhsanul Haq Mazhar
- ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کاتیری رحمت ہے سبب میری سبک ساری کامحمد علی جوہر
- کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپناروبرو کس کے کہیں ہم یہ فسانا اپناممنون نظام الدین
- آہ میں کچھ نظر آئی نہ اثر کی صورتیہ وہ ہے نخل کہ دیکھی نہ ثمر کی صورتمنشی شیو پرشاد وہبی
- دل میں اس بانیٔ بیداد کے گھر ہونے دورفتہ رفتہ مری آہوں کا اثر ہونے دومنشی شیو پرشاد وہبی
- عشق ابرو کا ہوا زلف رسا سے پہلےکیا تماشا ہے کہ مرتے ہیں قضا سے پہلےمنشی شیو پرشاد وہبی
- بحث کرنے کی نہیں ہے مجھے عادت واعظمے و معشوق ہیں میرے لئے جنت واعظمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیںغیر بھی تو مرے غم خوار بنے بیٹھے ہیںمرزا مائل دہلوی
- اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھاشوخ جیسا کہ ترے رنگ حنا کو دیکھامرزا مائل دہلوی
- اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جاناکیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جاناناصری لکھنوی
- دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئیتم چلے اٹھ کے مری جان قیامت آئیناصری لکھنوی
- آئی ہے اس بت کافر پہ طبیعت اپنیبخت اپنے ہیں نصیب اپنے ہیں قسمت اپنیQamar Hilali
- واہ کیا دھوم سے عاشق کا جنازہ نکلاسب کو دھوکا ہوا سمجھے کہ یہ دولہا نکلاQamar Hilali
- نیچی نظروں سے نہ دیکھو سر محشر دیکھودادخواہوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھورسا رامپوری
- زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہےسانپ کے منہ میں مجھے میری قضا لائی ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
- زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہےچلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
- خواب پلکوں پہ مری آ کے مچل جاتے ہیںیا کبھی بن کے گہر آنکھ سے ڈھل جاتے ہیںYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- فکر کیا اس کی یہ دل اور جگر کیا ہوگاتیرے سودائی کو اندیشۂ سر کیا ہوگاZabt Sitapuri
- تنہائی (عظیم الدین احمد)عظیم الدین احمد
- موت و حیاتعظیم الدین احمد
- برسات اور شاعرعظیم الدین احمد
- تصویر خیالیعظیم الدین احمد
- روح کو راہ عدم میں مرا تن یاد آیادشت غربت میں مسافر کو وطن یاد آیاامانت لکھنوی
- بے خبر کیسے کوئی راز نہاں تک پہنچےبات دل سے کہیں نکلے تو زباں تک پہنچےEjaz Ajmeri
- خود کو آفات زمانہ سے بچائے رکھئےوقت کیسا بھی ہو کردار بنائے رکھئےEjaz Ajmeri
- اک نظر مڑ کے مجھے دیکھ اے جانے والےیہ جو لمحے ہیں کبھی پھر نہیں آنے والےFaisal Fehmi
- اہل دنیا نے سکھایا مجھے حیراں ہوناکیسے انساں ہیں کہ آتا نہیں انساں ہوناJagdish Sahay Saxena
- شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچےآسماں سے جو گرے ہم تو زمیں تک پہنچےJagdish Sahay Saxena
- اپنی عظمت کا نگہبان نہیں ہے کوئیکیا اب اس دور میں انسان نہیں ہے کوئیLaiq Siddiqi
- منہ اندھیرے چمنستان کا پیکر لے کرکون گزرا ہے دبے پاؤں گل تر لے کرLaiq Siddiqi
- گلشن زیست پہ پر کیف گھٹا چھائی ہےرخ پہ ہر پھول کے اک حسن ہے رعنائی ہےLaiq Siddiqi
- فغان دہلیمفتی صدر الدین خان آزردہ
- غیر سے جم نہ سکا رنگ وفا میرے بعدمٹ گیا شیوۂ تسلیم و رضا میرے بعدNabiul Hasan Shamim
- رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سےپھر وہ کیا بات ہے منسوب ہوں مے خانے سےنہال سیوہاروی
- یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلقاور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کینہال سیوہاروی
- تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیںپر نگاہ غلط انداز کو کیا کہتے ہیںنشتر چھپروی
- سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہراسورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرانسیم میسوری
- میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتاہر پری زاد کو دیوانہ بنایا ہوتانسیم میسوری
- یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائےگل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائےشبلی نعمانی
- آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوںخود انا کہتا ہوں موجود بقاء کرتا ہوںYasin Ali Khan Markaz
- ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیںوہ تو پردہ لئے انسان بنے بیٹھے ہیںYasin Ali Khan Markaz
- حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلےمثل یوسف نہ پھرے جو ہیں وطن کے نکلےIbraheem Aajiz
- طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہوتم اگر دوست ہو تو دل کو دکھاتے کیوں ہوLaiq Aajiz
- سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کےآخرش خاک ہوئے خاک میں سب رل مل کےمرزا علی لطف
- جب بڑھا درد کی موجوں کا دباؤ صاحبمیری سانسوں کی لرزنے لگی ناؤ صاحبNadeem Sirsivi
- مستقل محو غم عہد گزشتہ ہوناایسے ہونے سے تو بہتر ہے نہ دل کا ہوناNadeem Sirsivi
- اس پہ دھبہ نہ لگا نام کو رسوائی کاآج تک پاک ہے دامن مری بینائی کاQadr Oraizi
- جب بھی گزرے ہوئے لمحات کو دہراتے ہیںہم خود اپنے ہی خیالوں میں الجھ جاتے ہیںRabab Rashidi
- جب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہےشاخ در شاخ اک احساس جواں ہوتا ہےRabab Rashidi
- دھوپ رخصت ہوئی شام آئی ستارا چمکاگرد جب بیٹھ گئی نام تمہارا چمکاRabab Rashidi