فکر کیا اس کی یہ دل اور جگر کیا ہوگا
Zabt Sitapuriفکر کیا اس کی یہ دل اور جگر کیا ہوگا
تیرے سودائی کو اندیشۂ سر کیا ہوگا
دشت پیمائی سے دیوانے کو حاصل کیا ہے
کوئی منزل نہیں جس کی وہ سفر کیا ہوگا
لطف جب ہے کہ ٹپکتے رہیں تھم کر آنسو
سیل اشک آیا تو اے دیدۂ تر کیا ہوگا
دل میں ہو یاد خدا اور صنم پیش نظر
ایسے عنواں کے لئے ذوق نظر کیا ہوگا
ہے مزا جب کہ ٹپکتا رہے آنسو بن کر
بہہ چلا خون تو انجام جگر کیا ہوگا
آج انسان کی پرواز ہے بالائے فلک
کل خدا جانے کہ انجام بشر کیا ہوگا
دفن قاروں کا خزانہ ہے تہ خاک اب تک
زندگی میں جو نہ کام آئے وہ زر کیا ہوگا
آتشؔ عشق نہ سینے میں اگر تیز ہوئی
سرد آہوں کا بھلا ضبطؔ اثر کیا ہوگا