طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہو

Laiq Aajiz

طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہو

تم اگر دوست ہو تو دل کو دکھاتے کیوں ہو

دیکھ لے یہ بھی زمانہ کہ ہو تم کتنے امیر

اپنی پلکوں کے نگینے کو چھپاتے کیوں ہو

اے مرے پاؤں کے چھالو مرے ہمراہ رہو

امتحاں سخت ہے تم چھوڑ کے جاتے کیوں ہو

تشنگی سے مری برسوں کی شناسائی ہے

بیچ میں نہر کی دیوار اٹھاتے کیوں ہو

میری تاریک شبوں میں ہے اجالا ان سے

چاند سے زخموں پہ مرہم یہ لگاتے کیوں ہو

اس سے جب عہد وفا کر ہی لیا ہے عاجزؔ

بے وفا کہہ کے اسے اشک بہاتے کیوں ہو