منہ اندھیرے چمنستان کا پیکر لے کر

Laiq Siddiqi

منہ اندھیرے چمنستان کا پیکر لے کر

کون گزرا ہے دبے پاؤں گل تر لے کر

مجھ کو شاہی میں فقیری کا مزا آتا ہے

کیا کروں گا میں سکندر کا مقدر لے کر

کون آیا ہے بیاباں میں کہ سناٹا ہے

اپنی آنکھوں میں چمن زار کا منظر لے کر

تیرے کوچے میں بصد شوق لٹا آیا ہوں

اپنا سرمایۂ دل تیرے برابر لے کر

کوچۂ شہر نگاراں میں پھرا ہے برسوں

شوق آوارہ مزاجی مجھے در در لے کر

ہم نے جگنو کو اندھیروں میں بھٹکتے دیکھا

اپنی مٹھی میں اجالوں کا مقدر لے کر

قدر محنت نہ ہوئی سارے زمانے میں لئیقؔ

لوٹ آیا میں خیالات کے جوہر لے کر