جب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہے
Rabab Rashidiجب کبھی قافلۂ ابر رواں ہوتا ہے
شاخ در شاخ اک احساس جواں ہوتا ہے
بوئے گل موج صبا سے یہ کہے ہے دیکھو
کون اب ہم سفر عمر رواں ہوتا ہے
یہ تصور جو سہارا ہے مرے جینے کا
یہ تصور بھی کسی وقت گراں ہوتا ہے
دن رہے چاہے پگھلنے لگے سورج سے بدن
رات پر تو کسی قاتل کا گماں ہوتا ہے
کتنے لمحے ہیں جو بے چہرہ چلے جاتے ہیں
سوچنے والے کو احساس کہاں ہوتا ہے
کوئی آندھی کہ بجھا دے یہ چراغوں کی قطار
ذہن میں جلتے ہیں اور گھر میں دھواں ہوتا ہے
اب نہ لہجے میں وہ گرمی نہ وہ آنکھوں میں چمک
کوئی ایسے میں بھلا دشمن جاں ہوتا ہے