شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچے

Jagdish Sahay Saxena

شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچے

آسماں سے جو گرے ہم تو زمیں تک پہنچے

ہے یہ تقدیر کی خوبی کہ نگاہ مشتاق

پردا بن جائے اگر پردہ نشیں تک پہنچے

جام و مینا کی قسم ہستئ صہبا کی قسم

بادہ کش ایک ہی لغزش میں یقیں تک پہنچے

ایسی تقدیر کہاں ہے کہ نسیم کوئے دوست

بھول کر راہ کسی خاک نشیں تک پہنچے

کر چکا روئے زمیں کا جو بشر کام تمام

یہ تمنا ہے کہ اب چرخ بریں تک پہنچے